اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 325

325 میں تو رسول اللہ ﷺ کا حال تم سے پوچھ رہی ہوں اپنے باپ یا بھائی یا خاوند کا نہیں پوچھ رہی۔تو پھر سپاہی نے جواب دیا کہ رسول اللہ یہ تو خیریت سے ہیں۔یہ خبر پا کر اُس عورت کے دل میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور بے اختیار کہنے لگی۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ کا رسول خیریت سے ہے دوسرے مارے گئے تو کوئی پروا نہیں۔پس سوچو کہ اُس عورت کے بھائی ، باپ اور خاند کیوں میدانِ جنگ میں گئے اس لئے کہ اُس کا خاوند جانتا تھا کہ اگر میں مارا گیا تو میری بیوی کو میری وفات کا کوئی صدمہ نہ ہوگا اُس کے بھائی یہ سمجھتے تھے کہ ہماری بہن ہماری شکست پر زندہ درگور ہوگی مگر تمہارے بچوں کے دل کیوں ڈرتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ہماری ماں جاتے وقت روتی ہے۔اس طرح دو یہ دل ہو جاتے ہیں۔پس تم اسلام کی ایک عظیم الشان خدمت کر سکتی ہو۔اگر تم اپنے بیٹوں کو ابو بکڑ یا عمر بنا دو گی اور یقیناً جو مقام تمہارے بیٹے کو ملے گا وہی تمہیں ملے گا۔اس کے بعد میں تحریک جدید کی طرف عورتوں کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں۔اس میں جو بات عورتوں کے ساتھ خاص طور پر تعلق رکھتی ہے وہ سادہ زندگی ہے۔یعنی لباس ، زیور اور کھانے پینے میں سادگی۔اس وقت ہندوستانیوں کی حالت نہایت گری ہوئی ہے سارے ملکوں کی دولت یورپ میں جا رہی ہے۔مسلمان بھی نہایت ذلت کی حالت میں ہیں۔ایک ہندوستانی کی ایک ادنیٰ سے ادنی انگریز کے سامنے کوئی ہستی ہی نہیں۔ایک انگریز چوہڑا ہی اگر ہندوستان میں آجائے تو وہ عزت والا ہوتا ہے مگر ہندوستانی کوکوئی پوچھتا بھی نہیں۔یہ اس لئے کہ انگریز حاکم ہے اور ہندوستانی محکوم۔اسی وجہ سے ہمارا ملک روز بروز کمزور ہورہا ہے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ بھی اپنی حالت کو آپ خراب کر رہے ہیں وہ اپنے زیور اور مال و دولت سے ہی اپنے ملک کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔زمیندار لوگوں میں بے شک سادگی ہے مگر وہ اپنے بیا ہوں شادیوں پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور ساری عمر اس کے سود سے نجات نہیں پاسکتے۔ہمارے سامنے اس قسم کی زندہ مثال فیروز پور کے ایک شخص کی ہے جس نے شروع میں پچاس روپے قرض لئے مگر اس قرضے کے سُود در سُود کے نتیجہ میں وہ لاکھوں کا مقروض ہو گیا۔اسی طرح شہری لوگ بھی حد سے زیادہ اسراف کرتے ہیں۔میں نے کئی مرتبہ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے اور آج پھر تمہاری توجہ اس طرف مبذول کرتا ہوں کہ بجائے قرضہ اُٹھانے کے تم کیوں نہیں یہ کرتیں کہ پہلے بچا لیا کر دتا تمہیں قرضہ