اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 326
326 لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔تم کہہ سکتی ہو کہ ہمارے پاس بچانے کے لئے کچھ نہیں۔لیکن کیا جب تمہارے پاس کھانا کھانے کو چند پیسے نہیں ہوتے تو تم فاقہ کرتی ہو نہیں بلکہ قرضہ لیتی ہو اور کھانے کا سامان کرتی ہو۔میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم فاقے کرو تا آئندہ تمہاری اولا دین تمہارے لئے دعا کریں۔ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور جمع کر سکتا ہے۔اگر تم بھی کچھ نہ کچھ پس انداز کرتی جاؤ گی تو تمہارا خاوند بنٹے کے پاس نہیں جائیگا۔آخر خود ہی سوچو کہ تم کس لئے اپنی اولادوں کو مقروض بناتی ہو چار پانچ روپے کے لئے ؟ اور اس معمولی سی رقم کی وجہ سے تمہاری اولادیں اپنی ساری عمر غلامی میں بسر کرتی ہیں اور کہتی رہتی ہیں کہ خدارحم کرے ہمارے دادا پر کہ اُس نے دس ہزار روپیہ ہمارے سر چڑھا دیا اور ساری عمر کے لئے بننے کا غلام بنا دیا۔اگر اُن کی مائیں تھوڑا تھوڑا بھی جمع کرتی رہتیں اور اپنے نفس کو قابو میں رکھتیں اور قرضہ نہ لیتیں تو غلامی سے نجات ہو جاتی۔کفایت شعاری کسی قوم کے افراد کا پہلا اور اہم فرض ہے۔اور کفایت شعاری ہی وہ اصل ہے جس پر عمل کر کے کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے۔تم اپنے خاوندوں کو اسراف سے روکو اور اپنے بچوں کو غلامی سے بچاؤ۔پس کچھ نہ کچھ پس انداز کرتے رہنا چاہیئے اور کھانے اور پینے میں سادگی اختیار کرنی چاہیئے۔ایک کھانا کھانے سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ امیر اور غریب آپس میں مل بیٹھیں گے اور امارت و غربت کا امتیاز مٹ جائے گا۔دوسرا اس کا فائدہ ہے کہ ایک کھانا کھانے سے انسان کی صحت اچھی رہتی ہے۔زیادہ کھانا کھانے سے ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ معدے کمزور ہو جاتے ہیں۔پیچش اور کسل کی شکایت رہتی ہے۔ایسے لوگ نہ تو نماز پڑھ سکتے ہیں نہ روزہ رکھ سکتے ہیں۔کھانوں کے شوقین نمازوں میں بھی مرغن کباب اور متنجن کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔مگر اس کے مقابلہ میں سادہ زندگی میں ایسی لذت ہے کہ عبادتوں میں بھی ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔ایک صوفی صاحب سے جب پوچھا گیا کہ خدا کس طرح مل سکتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ کم کھانے ہم سونے اور کم بولنے سے یہ تین چیزیں خدا سے ملاتی ہیں۔پس تحریک جدید جو ہے وہ کم خوردن پر زور دیتی ہے۔سادہ زندگی اختیار کرنے سے تم شور بہ پکاؤ گی تو تم آسانی سے دو اور غریبوں کو اپنے ساتھ کھانا کھلا سکو گی۔اس طرح تمہارا دل بھی خوش ہو جائے گا اور غریب کا دل خوش کرنے سے تو خدا تعالیٰ بھی خوش ہو جاتا