اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 22
22 جَاهَدُ وَافِيْنَا لَنَهْدِ يَنْهُمْ سُبُلَنَا (۶۹) کہ جو ہم تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتا ہے اُس کے لئے ہم دروازے کھول دیتے ہیں۔پس وہ مرد و عورت جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے وقت کوشش کی ، دین کے لئے گھر سے بے گھر ہوئے ، مال و جان کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لگا دیا ، اپنے خیالات اور عزیزوں ، رشتہ داروں ، وطن غرضیکہ ہر ایک پیاری سے پیاری چیز کو قربان کر دیا انکو دین میں بھی بڑے بڑے رتبے حاصل ہو گئے اور دنیا میں بھی بڑے بڑے انعام مل گئے۔آج بھی اگر مرد و عورتیں اسی طرح کریں ، خود دین سیکھیں اور عمل کر کے دکھا ئیں ، دوسروں کو سمجھانے اور عمل کرانے کی کوشش کریں ، دین کے مقابلہ میں کسی چیز کی پروانہ کریں تو ویسی ہی بن سکتی ہیں۔اب میں بعض موٹے موٹے مسائل بیان کرتا ہوں جن کا یا درکھنا بہت ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کو ایک سمجھنا اسلام کا سب سے بڑا عقیدہ یہ ہے کہ خدا ہے اور ایک ہے۔اس عقیدہ کو پھیلانے کے لئے آنحضرت ﷺ کو بڑی بڑی تکالیف اٹھانی پڑیں مکہ والوں کا ذریعہ معاش چونکہ بُت ہی تھے اور انہی پر ان کی گزران تھی اس لئے بتوں کو چھوڑ نا اُن کے لئے بہت مشکل تھا۔جب آنحضرت والله نے بتوں کے خلاف سمجھانا چاہا تو انہوں نے ایک مجلس کی اور ایک آدمی مقرر کیا جو آنحضرت نے کو جا کر کہے کہ آپ اس بات سے باز آجا ئیں چنانچہ وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آکر کہا کہ اگر آپ کو مال کی خواہش ہے ہم بہت سا مال لا کہ آپ کے سامنے ڈھیر کر دیتے ہیں، اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم سب آپ کو حاکم ماننے کے لئے تیار ہیں ، اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میری بات مانی جائے تو آئندہ ہم آپ کے مشورہ کے بغیر کو کی بات نہیں کریں گے اور اگر آپ کو کوئی بیماری ہوگئی ہے تو ہم اس کا علاج کرانے کے لئے تیار ہیں لیکن آپ بتوں کے خلاف کہنا چھوڑ دیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو بائیں لا کر رکھ دو تو بھی میں یہ کہنا نہیں چھوڑوں گا کہ خدا ایک ہے اور کوئی اُس کا شریک نہیں۔تو یہ ایک ایسا اہم عقیدہ ہے کہ جس کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور گناہ تو معاف کر دوں گا مگر شرک نہیں معاف کروں گا۔آجکل یہ بہت پھیلا ہوا ہے اور مسلمانوں میں گو بتوں کی پرستش نہیں پائی جاتی مگر ان کی بجائے قبروں کو پوجا جاتا ہے۔پھر عورتوں کا اپنے خاوند عزیز رشتہ داروں کے متعلق یہ کہنا کہ جو اُن کا مذہب ہے وہی ہمارا مذہب ہے شرک ہے، اسی طرح یہ بھی کہ اگر فلاں بات پوری ہو گئی تو فلاں پیر کی نیاز دی جائے