اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 270
270 رہنے والے لوگ شہروں کا ناقص گھی کھانے کے عادی نہیں ہوتے اس لئے لاہور میں تو پہلا ہی کھانا کھانے کے بعد میرا گلا خراب ہو جایا کرتا ہے لیکن یہاں تیسرے کھانے کے بعد یہ تکلیف ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ شام کے بعد بھی مجھے ایک تقریر کرتی ہے اس لئے اختصار کے ساتھ یہ کہہ کر میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں کہ عورتوں کے اندر عام طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم کسی کام کی نہیں۔یہ خیال قطعاً بے بنیاد ہے اور اسے جس قدر جلد ممکن ہو دل سے نکال دینا چاہیے۔سیالکوٹ کی لجنہ نے ثابت کر دیا ہے کہ عورتیں بھی کام کر سکتی ہیں۔عورتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی کے حضور مرد و عورت برابر ہیں اور مردوں کی طرح وہ بھی ترقی کے مدارج طے کر سکتی ہیں۔رسول کریم اللہ نے اپنی ایک بیوی کے متعلق فرمایا ہے حلوا نِصْفَ دِينِكُمْ مِنْ هذِهِ الْحُمَيْرَاءِ یعنی نصف دین عائشہ سے سیکھو اور ہم دیکھتے ہیں حضرت عائشہ نے ایسے ایسے اہم امور میں مردوں کی راہنمائی کی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔رسول کریم کی باتوں کے سمجھنے میں انہیں کمال حاصل تھا۔بسا اوقات مردوں کی عقل وہاں تک نہ پہنچتی تھی جہاں ان کا دماغ پہنچ جاتا تھا۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ رسول کریم ﷺ کے خاندان میں ایک میت ہو گئی اور غالباً حضرت علی کے بھائی لڑائی میں شہید ہو گئے۔عورتوں کو سخت صدمہ تھا وہ نہین کرنے لگیں اور چونکہ یہ بات منع ہے اس لئے کسی نے آکر رسول کریم سے ذکر کیا۔آپ نے فرمایا جاؤ جا کر ان کو منع کرو۔اس نے منع کیا مگر وہ نہ رکیں۔اسلام اس وقت ابتدائی حالات میں تھا اور عورتوں کی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی۔اس نے پھر آ کر رسول کریم نے سے عرض کیا کہ وہ باز نہیں آتیں۔آپ نے فرمایا:۔فَاجِتُ فِي أفْوَاهِهِنَّ التراب یعنی ان کے منہ پر مٹی ڈالوں اس شخص نے واقعی مٹی اٹھائی اور جا کر اُن پر ڈالنی شروع کر دی۔حضرت عائشہ کو علم ہوا تو آپ نے اُس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا تم مرد ہو لیکن اتنی عقل نہیں رکھتے کہ رسول کریم کے اس ارشاد کا مطلب کجھو۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ نہیں کہ واقعی ان پر مٹی ڈالو۔تو