اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 242
242 اور جذبہ کے ماتحت آنے والوں کی کچھ خاطر کرتا ہے اُسے بدعت نہیں کیا جا سکتا۔میر صاحب نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے کہ اوسط درجہ کے لوگوں کو چاہئے کہ کچھ پار چات، کتا ہیں اور ایک ٹریک و غیر لڑکی کو دے کر رخصت کر دیں لیکن اگر لڑکی کو کچھ دینا بدعت ہے تو پھر یہ بات بھی بدعت کو رواج دینے والی ہے ایسا کیوں کیا جائے۔اصل بات یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اگر کوئی دیتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جو شخص یہ معمولی چیزیں بھی دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اور پھر زیر بار ہو کر ایسا کرتا ہے تو شریعت اُسے ضرور پکڑے گی۔چونکہ اُس نے اسراف سے کام لیا۔حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اسراف تبذیر سے منع فرمایا ہے۔جیسے ارشاد ہے:۔لَا تُبَذِّرِ تَبْذِيرًا۔اور اسراف کرنیوالوں کو شیطان کا بھائی کہا ہے لیکن اگر کوئی اپنی طاقت اور خوشی کے مطابق اس سے بہت زیادہ بھی دے دیتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں۔اگر آج ایک شخص اس قدر حیثیت رکھتا ہے کہ وہ لڑکی کو دس ہزار روپیہ دے سکتا ہے بے شک دے۔اگر اس کے بعد اس کی حالت انقلاب دہر کے باعث ایسی ہو جائے کہ دوسری لڑکی کو کچھ بھی نہ دے سکے تو اس میں اس پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔کیونکہ پہلی کو دیتے وقت اسکی نیت یہی تھی کہ سب کو دے اب حالات بدل گئے۔بدعت کی نمائش اور اسراف سے اجتناب مختصر یہ کہ بدعت وہ ہے جسے لوگ قطعی حکم نہ ہونے کے باوجود پابندی سے اختیار کریں اور وہ اسلام سے ثابت نہ ہو لیکن لوگوں کے کہنے سے اس کو ضروری سمجھا جائے۔یہ نمائش ہوتی ہے اور اس کو اختیار کرنا اسراف میں داخل ہے اور اسراف کرنے والے کو خدا تعالیٰ نے شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔پس اس سے بچنا چاہئے اور تباہ کن بدعات سے جس قدر ممکن ہو مخلصی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔۔(مصباح ۱۵۔مئی ۱۹۳۰ء ) تقریر حضرت خلیفہ اسیح الثانی بر موقع جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۳۰ء تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد آیات تلاوت کیں:۔وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ، قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُونَ