اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 243
فرمایا:۔243 دنیا میں خلیفے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جنہیں انسان بناتا ہے دوسرے وہ جنہیں خدا الہام کے ذریعہ بناتا ہے۔الہام کی بناء پر ہونے والے خلیفہ کو نبی کہتے ہیں جو لہم خلیفے ہوتے ہیں اُن کے آنے پر دنیا میں فساد برپا ہو جاتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ خود فسادی ہوتے ہیں بلکہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ طبائع نا موافق ہوتی ہیں۔اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پیدائش کے واقعہ کے متعلق فرمایا کہ اُس وقت فرشتوں نے بھی یہی کہا کہ آپ دنیا میں ایسے شخص کو پیدا کرنا چاہتے ہیں جو زمین میں فساد کرے۔یعنی فرشتوں نے سوال کیا آپ کی غرض اصلاح معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت یہ فساد کا موجب ہے۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔میں خلیفہ اس لئے بنا تا ہوں کہ تا اچھے اور خراب علیحد و کئے جائیں۔قرآن میں پہلے اسی سوال کو لیا گیا ہے کیونکہ ہر ایک نبی کی بعثت پر فساد بر پا ہوئے اور نبیوں کو ان کا موجب بنایا گیا۔دیگر نبیوں کے علاوہ محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت بھی یہی عام مقولہ تھا کہ اسنے بھائی بھائی کو الگ کر دیا۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ آپ بانی فساد ہیں۔بہتر ہے فرقے تو پہلے ہی تھے۔اب آپ نے احمدیوں کا تہتر و آن فرقہ نکال دیا۔چاہئے تو یہ تھا کہ یہ تفرقے کم کئے جاتے آلنا ایک زائد کر دیا۔شاید تمہارے خیال میں بھی جو غیر احمدی ہیں انکا یہی خیال ہو اس لئے پہلے میں اسی مسئلہ کو صاف کرتا ہوں۔پہلا سوال خون و فساد کا ہے اس کے متعلق یاد رکھو کہ قرآن کریم نے نبی کی آمد سے پہلے کی حقیقت ہوں واضح کی ہے کہ ظَهَرُ الفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی اس وقت خکلی وتری میں فساد تھے اور ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے آنے سے پہلے کیا دنیا ایک ہی فرقہ پر تھی یا یہ فساد موجود پہلے ہی تھے؟ شیعہ خفی پہلے ہی موجود تھے یا نہیں ؟ گیارھویں، آمین، بالجبر ، رفع یدین کے قضیے پہلے ہی تھے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔غور کرو تو معلوم ہوگا کہ اتنا فساد تھا جس کی حد نہیں اور جس کے سننے سے بھی شرم آتی ہے۔افغانستان میں سینکڑوں آدمیوں کی انگلیاں مروڑ دی گئیں صرف اس لئے کہ الحیات میں تشہد کے وقت د و شہادت کی انگلی کو اٹھاتے تھے اور حنفی اپنے عقیدہ کے مطابق ایسی نماز کو ضائع سمجھتے تھے۔ایک دوست نے سُنایا کہ ایک مرتبہ ایک اہلحدیث حنفیوں کی مسجد میں اُن کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ