اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 241
241 ضرور کرنا چاہیئے۔عام طور پر اپنی مالی حالت کو دیکھا نہیں جاتا۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نہ صرف جہیز بلکہ بری بھی بُری چیز ہے اپنی استطاعت کے مطابق جہیز دینا تو پھر بھی ثابت ہے لیکن بُری کا اس رنگ میں جیسے کہ اب مروج ہے مجھے اب تک کوئی حوالہ نہیں ملا لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ جہیز بھی اگر کوئی دے سکے تو نہ دے۔ایسے موقعوں پر ہمارے لئے سنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز عمل ہے قرآن کریم سب سے مقدم ہے اور جن مسائل کے متعلق وہ خاموش ہے اُن کے لئے حدیث کو دیکھنا جائز ہے لیکن احادیث کے راوی ہمارے سامنے موجود نہیں اور ہم ذاتی طور پر ان کے اخلاق اور صداقت کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔عین ممکن ہے کہ ان میں سے بعض وضاع ہوں۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی حدیث ہو لیکن آج وہ روی کے کاغذ سے زیادہ حیثیت نہ رکھتی ہو اور ایک حدیث جو کہ رڈی میں پھینکنے کے قابل ہو وہ مسیح کبھی جاتی ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے متعلق بھی کئی احادیث وضعی ثابت ہوئی ہیں اور کئی ایسی ہیں جو صحیح ہونی چاہیئے تھیں مگر وضعی کبھی جاتی ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مامور آیا اس کی وحی تازہ بہ تازہ ہے۔اور جو کچھ اسنے کہا ہے وہ اس اس کی طرح سے جو تازہ پھل سے نچوڑا گیا ہو۔پس اس کا عمل ہی صحیح سنت اور تعلیم اسلام ہے۔چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔اور احادیث کی مثال تو ایسی ہے جیسے زید آ کر ہم سے کہے قرآن میں یوں لکھا ہے حالانکہ ہم نے خود نہ دیکھا ہو لیکن ہم براہ راست خدا تعالیٰ کے مرسل سے اس کے متعلق جو کچھ سنیں اسے ہم مقدم سمجھیں گے۔لڑکی والوں کی طرف سے دعوت لڑکی والوں کی طرف سے دعوت جہاں تک میں نے غور کیا ہے ایک تکلیف دہ چیز ہے لیکن اگر لڑکی والے بغیر دعوت کے آنے والوں کو کچھ کھلا دیں تو یہ ہر گز بدعت نہیں۔ہاں اگر یہ کہا جائے جو نہیں کھلاتا وہ غلطی کرتا ہے تو یہ ضرور بدعت ہے۔اور اسی طرح جو یہ کہے کہ جو جہیز نہیں دیتا وہ غلطی کرتا ہے اور جہیز ضرور دینا چاہیئے تو وہ بھی بدعت پھیلانے والوں میں سے ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے لڑکی کو کچھ دیتا ہے یا آنے والے مہمانوں کو کچھ کھلاتا ہے تو یہ ہر گز بدعت نہیں کہلا سکتی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مبارکہ بیگم کی شادی پر بعض چیزیں اپنے پاس سے روپے دے کر آنیوالے مہمانوں کے لئے امرتسر سے منگوا ئیں۔جو شخص یہ سمجھ کر کہ ایسا کرناضروری ہے ایسا کرتا ہے وہ بدعتی ہے لیکن جو شخص اپنے فطری احساس