اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 229
229 متقی عالم ہوتا ہے۔قرآن مجید امیوں کو اعلم الناس بنا دیتا ہے دنیاوی لحاظ سے دیکھو حضرت صاحب کو کوئی ایسا دنیوی علم حاصل نہ تھا گو ہم اعتقادی طور پر آپ کو عالم مانتے ہیں۔آپ نے جو کتابیں لکھی ہیں معجزانہ رنگ میں لکھی ہیں مگر ظاہری طور پر آپ عالم نہ تھے اسی لئے مخاطب مولوی آپ کو طعن کے طور پر منشی لکھا کرتے تھے مگر خدا تعالی نے علوم کے دروازے آپ پر کھول دئے۔میرا اپنا حال دیکھو زمانہ طالب علمی میں فیل ہی ہوتا رہا۔ایک جماعت بھی پاس نہ کر سکا اسی بناء پر حضرت صاحب سے لوگوں نے شکائت کی کہ یہ پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے طلب کیا اور ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول گوبلا یا۔میں ڈر رہا تھا کہ دیکھئے میرے لئے کیا سزا تجویز ہوتی ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عبارت لکھ کر مجھے دی کہ اسے نقل کردو۔جب میں نے اُسی طرح نقل کر دی تو مولوی صاحب کو دکھا کر فرمایا کہ شکایت تو غلط معلوم ہوتی ہے۔یہ میرا امتحان ہوا۔پھر اس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے مجھے پڑھایا۔اُن کے پڑھانے کا یہ طریق تھا کہ آپ ہی ایک ایک سپارہ پڑھتے جاتے سوال کرنے پر فرماتے کہ میاں آپ ہی آجائے گا۔علماء زمانہ کو بالمقابل تفسیر القرآن کا چیلنج میرے ظاہری علم کو لیا جائے تو میں کسی صورت میں بھی عالم نہیں کہلا سکتا مگر میں نے قرآن کو قرآن سمجھ کر ھا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔اور اب اس قابل ہوا کہ میں تمام مخالف علماء کو چیلنج دیتاہوں کہ کوئی آیت لے کر مجھ سے تفسیر کلام الہی میں مقابلہ کر لیں میں انشاء اللہ تعالی تائید الہی سے اُس کے ایسے معنے بیان کروں گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔کوئی مضمون ہو بغیر سوچنے کے کھڑا ہوتا ہوں اور اللہ تعالی مجھ پر علم کے دروازے کھول دیتا ہے۔خدا تعالی نے مجھ پر قرآن کریم کے ایسے ایسے نکات ظاہر کئے ہیں جو رسول کریم اللہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مستی کر کے اس تیرہ سو سال کے عرصہ میں کسی سے ظاہر نہیں ہوئے۔پس تمام علوم اخلاص اور تقویٰ سے پیدا ہوتے ہیں ظاہر سے نہیں۔تم خود اس کو آزماؤ اخلاص سے قرآن کو پڑھو خدا خود تمہیں اس کا علم عطا کرے گا۔بسا اوقات مختلف امور کے ماہر میرے پاس آتے ہیں اور وہ اس کے متعلق مجھ سے اس