اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 228
228 زمانے کے حالات بیان کئے ہیں فرمایاوَإِذَا الْعَشَارُ عُطَلَت یعنی اونٹنیوں کی سواریاں بے کار ہو جائیں گی دنیا نے آج ریل نکالی ہے اِس سے ثابت ہو گیا کہ قرآن نے سالہا سال پہلے بتا دیا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا یعنی ایسی سواریاں پیدا ہو جائیں گی کہ ان سواریوں کی ضرورت نہ رہے گی۔وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَت۔یعنی ادنی و جاہل تو میں عزت والی بن جائیں گی اور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ بھی بیدار ہو کر اپنا حق مانگیں گی اور دنیا کو اُن کے حقوق دینے پڑیں گے۔اب الیکشن کے سوال کو ہی دیکھو کس زیر دست طور پر اس پیشگوئی کی تصدیق کر رہا ہے کہ بڑے بڑے علات والے برہمن چوہڑوں کے دروازوں پر ووٹ مانگنے کے لئے جاتے ہیں۔وَإِذَ التَّقْوَسُ زُوجَت یعنی لوگ ملا دئیے جائیں گے۔یعنی اونی اور اعلیٰ ایک جگہ پر ا کٹھے ہوں گے۔اس کا ایک نمونہ آج کا جلسہ ہی ہے۔تم میں سے کئی ہیں جن کی مائیں اور دادیاں اپنے سے ادنی لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھنے کو اپنی ہتک خیال کرتی ہوں گی مگر تم خدا کی وحی کے مطابق مل کر بیٹھی ہو اور خدا نے سب کو برابر بنا دیا۔زمانہ بدل چکا اس لئے تم بھی تبدیلی پیدا کرو آج تمام سرداریاں ختم ہو گئیں۔پہلے زمانہ میں جو حال تھا اس کا نقشہ اس مثال سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک چوہدری ایک مراثی کو ساتھ لے کر سفر کو جا رہا تھا راستے میں سرائے میں ٹھہرا جس چار پائی پر وہ جیٹھا اُس کے نیچے بارش کی وجہ سے سخت کچھڑ تھا۔ناچار بیچارہ مراثی چوہدری کے پاس بیٹھ گیا چوہدری نے اُسے خوب جوتے لگائے اور کہا تم ہماری برابری کرتے ہو۔دوسری منزل پر انہیں چار پائی نہ ملی اور چوہدری کو زمین پر بیٹھنا پڑا۔جب مراثی پھاؤڑے سے زمین کھودنے لگا اور قبر کی طرح ایک گڑھا بنانے لگا۔چوہدری نے کہا یہ کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا بر ابر کیسے بیٹھوں۔اب وہ زمانہ نہیں رہا۔آج کئی اونی اقوام کے ڈپٹی ہیں اہل غرض سید ، پٹھان، مغل سلام کرنے اُن کے دروازے پر جاتے ہیں۔اب وہ معز ز اور بڑا ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک مومن اور متقی ہے۔اس زمانہ میں یاد رکھو کہ اب تم بھی گھروں میں بیٹھ کر حکومت نہیں کر سکو گی۔وہ راج کا زمانہ چلا گیا۔ساری بڑائیوں کو مٹا کر خدا تعالیٰ اتحاد پیدا کرنا چاہتا ہے۔فیصلہ قرآن کے مطابق آج وہ بڑھایا جائے گا جو نیک ہوگا۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ کے مطابق