اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 180
180 ہے ؟ میں نے کہا قادیان۔کہنے لگے وہاں کیوں جاتے ہو؟ میں نے کہا میرا وہاں گھر ہے۔کہنے لگے کیا تم مرزا صاحب کے رشتہ دار ہو؟ میں نے کہا میں اُن کا بیٹا ہوں۔اُن دنوں اُن کا کسی احمدی کے ساتھ جھگڑا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ میں اُس احمدی سے کہوں کہ مقدمہ چھوڑ دے۔مگر انہوں نے پہلے غرض نہ بتائی اور کچھ خشک میوہ منگوا کر کہا کھاؤ۔میں نے کہا مجھ کو نزلہ کی شکایت ہے۔کہنے لگے جو کچھ تقدیر الہی میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔میں نے کہا اگر یہی ہے تو آپ سے بڑی غلطی ہوئی ناحق سفر کی تکلیف برداشت کی اگر تقدیر میں ہوتا تو آپ خود بخود جہاں جانا تھا پہنچ جاتے۔اس پر خاموش ہو گئے۔تو تقدیر کے متعلق بالکل غلط خیال سمجھا گیا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے ہم کسی کو مومن یا کا فرنہیں بناتے بلکہ وہ خود ہی شکر گزار بندہ یا کافر بنتا ہے۔اور ہم نے جب اُس کو مقدرت دیدی تو حساب بھی لیتا ہے۔دیکھو جس نوکر کو مالک اختیار دیتا ہے کہ فلاں کام اپنی مرضی کے مطابق کرو اس سے محاسبہ بھی کرتا ہے۔منکروں کی سزا پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلَا سَلَا وَأَغْلَالًا وَّسَعِيراً۔جو لوگ انکار کرتے ہیں اُن کے لئے زنجیریں اور طوق ہیں اور آگ رکھی ہے۔(سورۃ دلدھر ) رسوم اور عادات سے بچو وہ زنجیر کیا ہے؟ وہ رسوم ہیں جن کا تعلق قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔مثلاً بیٹے کا بیاہ کرنا ہے تو خواہ پاس کچھ نہ ہو قرض لے کر رسوم پوری کرنی ہوتی ہیں۔یہ زنجیر ہوتی ہے جو کا فرکو جکڑے رہتی اور وہ اس سے علیحدہ نہیں ہونے پاتا۔اس کے مقابلہ میں مومن ہے اُس کے نکاح پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔اگر توفیق ہے تو چھوہارے بانٹ دو اگر نہیں تو اس کے لئے بھی جبر نہیں۔پھر اغلال وہ عادتیں ہیں جن کا اپنی ذات سے تعلق ہے۔اسلام عادتوں سے بھی روکتا ہے، شراب، حقہ، چائے کسی چیز کی بھی عادت نہ ہونی چاہئے۔انسان عادت کی وجہ سے بھی گناہ کرتا ہے۔حضرت صاحب کے زمانہ میں حضرت صاحب کے مخالف رشتہ داروں میں سے بعض لوگ محلہ لے کر بیٹھ جاتے۔کوئی نیا آدمی جسے للہ کی عادت ہوتی وہاں چلا جاتا تو وہ خوب گالیاں دیتے۔چنانچہ ایک احمدی انکی مجلس میں گیا انہوں نے مطلہ آگے رکھ دیا اور حضرت صاحب کو گالیاں