اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 151

151 کرتے۔چنانچہ ہندوؤں میں یہ عام رواج ہے کہ خواہ اسی برس کا بڈھا ہو اس کی شادی پانچ چھ سال کی لڑکی سے کر دیتے ہیں۔یہ شادی نہیں بلکہ بردہ فروشی ہے اور بردہ فروشی کی شریعت اجازت نہیں دیتی کیونکہ آزادی ہر انسان کا حق ہے اور یہ حق چھینے کا کسی کو اختیار نہیں۔انسانی آزادی فروخت نہیں کی جا سکتی ممکن ہے کوئی کہے اولاد ماں باپ کی چیز ہوتی ہے اس لئے ان کا حق ہے کہ ان سے فائدہ اٹھا ئیں۔مگر یہ بھی جائز نہیں اور میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بھی نہیں بیچ سکتا اور میرے نزدیک یہ نا جائز ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو بیچ دے بہ جائیکہ کوئی اُس کی آزادی کو پیسے خواہ وہ ماں باپ ہی ہوں انہیں بھی اپنے بچوں کی خریت اور آزادی کے بیچنے کا حق نہیں لیکن ایسے ماں باپ ہیں جو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ہمارے گھر میں ہی قریب کے ایک گاؤں کی ایک عورت آیا کرتی تھی جو زمیندار تھی وہ خوشی سے سُنایا کرتی تھی کہ ہم نے اتنے روپے پر فلاں لڑکی کو بیاہ دیا اور اتنے روپے پر فلاں کو اور اس طرح قرض اُتار دیا۔ان لڑکیوں کو اتنی ڈور ڈور بیاہ دیا کہ پھر وہ آبھی نہ سکیں۔ان حالات میں اگر اس بات کی اجازت دے دیں کہ ماں باپ لڑکیوں کا مہر لیا کریں تو یہ ایک بہت بڑا علم اور احکام الہی کی منشاء کے بالکل خلاف ہو گا اور لڑکیوں کو مصیبت اور تکلیف میں ڈالنے کی کھلی اجازت ہوگی۔نیک نیتی سے شادی کرنے کا انجام اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض دفعہ نہایت سوچ سمجھ کر ماں باپ لڑکی کی شادی کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ شادی لڑکی کے لئے آرام کا باعث نہیں ہوتی لیکن یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اس میں اُن کی بدنیتی نہیں ہوتی اور اس صورت میں لڑکی ماں باپ کو کوستی بھی نہیں کیونکہ وہ مجھتی ہے کہ میرے ماں باپ نے تو دیکھ بھال کر میرا بیاہ کیا تھا آگے میری قسمت کہ مجھے اچھا پر نہ ملا اس پر وہ صبر اور شکر کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہے۔مہر عورت کی ضروریات زندگی کے لئے ہے غرض مہر چونکہ عورت کی ساری عمر کے اخراجات کے لئے ہوتا ہے اور ان ضرورتوں کے لئے ہوتا ہے جو