اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 152
152 اُسے آئندہ زندگی میں پیش آتی ہیں اس لئے اُس کا نکاح کے موقعہ پر اسے اس لئے دے دینا کہ وہ اپنے ماں باپ کو دیدے یا کسی اور ایسے مصرف میں لے آئے جو اتنا ضروری نہیں درست نہیں ہوسکتا کیونکہ اُسے اُس وقت اتنا بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مال کی کیا حقیقت ہے اور اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ بیا ہتا زندگی کی کیا ضرورتیں ہیں۔وہ اُس وقت بجھتی ہے کہ خاوند کے گھر جا کر جو چاہوں گی لے لوں گی لیکن اُسے نہیں معلوم کہ جو کچھ وہ اس وقت سمجھ رہی ہے وہ درست نہیں بلکہ اس کے پاس کچھ اپنا مال ہونا بھی ضروری ہے جسے وہ اپنے طور پر خرچ کر سکے۔جیسے مثلا ماں باپ کی مدد ہے یا بھائیوں کی مدد ہے یا رشتہ داروں کی مدد ہے۔ان باتوں کے ماسوا مہر کا روپیا اس کے اپنے بال بچوں کے بھی کام آسکتا ہے۔خاوند کی زندگی میں بھی وہ اسے خرچ کر سکتی ہے لیکن جب خاوند مر جائے تو پھر وہ اس سے اپنا گزارہ کرسکتی ہے اور یہی روپیہ اُس کی اور اُس کے بال بچوں کی پرورش کا باعث ہو سکتا ہے لیکن اِن حالات سے وہ ابتدا میں ناواقف ہوتی ہے اور اگر ایسے وقت میں اُس کے والدین اس کے مہر کا روپیہ لے لیں تو وہ موقعہ پڑنے پر بالکل تہی دست ہوگی اور مشکلات میں پڑ جائے گی۔پس یہ جائز نہیں کہ مہر پہلے ہی ماں باپ لے لیں۔ہاں عورت انہیں قابل اعداد کجھ کر اس میں سے اُس وقت دے سکتی ہے جب وہ شادی کے بعد اپنی ضرورتوں اور حاجتوں سے واقف ہو جائے۔یوں تو عورت اپنے خاوند کو بھی مہر کا رو پی دے سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہ خاوند مہر ادا کئے بغیر ہی لینے کا اقرار کرائے۔اس طرح عورت بجھتی ہے مہر پہلے کونسا مجھے ملا ہوا ہے صرف زبانی بات ہے اس کا معاف نہ کرتا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا اس لئے کہہ دیتی ہے میں نے معاف کیا۔ورنہ اگر اُسے دیدیا جائے اور وہ اسکے مصارف جانتی ہو تو پھر معاف کرا لینا اتنا آسان نہ ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر ائمہ کہار اور بزرگوں کا فیصلہ تو یہ ہے کہ کم از کم سال کے بعد عورت اپنا مہر اپنے خاوند کو دے سکتی ہے۔یعنی مہر وصول کرنے کے بعد ایک سال تک وہ اپنے پاس رکھے اور پھر اگر چاہے تو خاوند کو دیدے۔مہر ضرور ادا کرنا چاہئے حکیم فضل دین صاحب جو ہمارے سلسلہ میں السابقون الاولون میں سے ہوئے ہیں انھی دو بیویاں تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا مہر شرعی حکم ہے اور ضرور عورتوں کو دینا چاہئے۔اس پر حکیم صاحب نے کہا میری بیویوں نے مجھے معاف کر دیا ہوا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کیا