اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 149
149 نہ ہوتا اُن کی ہمدردی اس سے متاثر نہ ہو اور مصیبت کے وقت لڑکی کے لئے وہ جائے پناہ بن سکیں۔نکاح کے وقت ماں باپ کے مہر لینے سے نقصان اس لئے ضروری ہے کہ ماں باپ کی نیت نکاح کے وقت بالکل پاک وصاف ہو لیکن اگر یہ بات جائز رکھ دی جائے کہ وہ مہر کی رقم لے لیا کریں یا اپنے لئے کچھ رکھ لیں تو قطع نظر اس سے کہ اخلاق کیا کہتا ہے قطع نظر اس سے کہ شریعت کا کیا حکم ہے، قطع نظر اس سے کہ تمدن پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے اس کا ایک خطر ناک نتیجہ یہ ہوگا کہ اُن کے مد نظر لڑکی کو کسی مناسب جگہ بیاہنا نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ کہاں سے انہیں زیادہ رقم مل سکتی ہے۔یعنی اگر اُن کے لئے یہ اجازت ہو کہ وہ مہر کا روپیہ لے سکیں تو وہ حتی الوسع یہ کوشش کریں گے کہ کسی ایسی جگہ لڑکی بیا ہیں جہاں سے انہیں زیادہ روپیہ ملنے کی امید ہو اور یہ نہیں دیکھیں گے کہ لڑکی کے لئے وہ جگہ موزوں بھی ہے یا نہیں۔وہ طبع کے نیچے آکر کسی مناسب جگہ کے بدلے غیر مناسب جگہ بیاہ دینے کی کوشش کریں گے مثلا کسی ایسے امیر سے بیاو دیں گے جو بعض وجوہ کی بنا پرلڑکی کو اچھی طرح نہ رکھے جہاں اس کیلئے بجائے سکھ کے دُکھ اور بجائے راحت کے تکلیف ہو اور وہ ساری عمر مصیبت میں پڑی رہے۔ماں باپ کی خاطر لڑ کی ایک وقت تو کنویں میں بھی گو د سکتی ہے لیکن ہمیشہ کی مصیبت اس کے لئے نا قابل برداشت ہوتی ہے اور جولڑ کی والدین کی نفسانی اغراض کا شکار ہو کر کسی ایسی جگہ بیاہی جائے جو اس کے مناسب حال نہ ہو وہ ہمیشہ کے لئے تکلیف میں رہے گی۔نا مناسبت کی وجہ سے جب اس کے محبت کے تقاضے ، جذبات کے تقاضے، احساسات کے تقاضے ، ضروریات کے تقاضے ، آرام و آسائش کے تقاضے پورے نہ ہوں گے تو وہ اپنی زندگی کوموت سے بدتر خیال کرے گی۔اس وجہ سے کوئی لڑکی اس قسم کی تکلیفوں کو تمام عمر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتی۔حالانکہ اگر ایک وقت اُسے ماں باپ کے لئے جان بھی دینی پڑے تو وہ دیدے گی۔نفسانی غرض کے ماتحت شادیوں کا نتیجہ لڑکی فطرنا خواہشمند ہوتی ہے کہ نکاح کے بعد خاوند کے ہاں جا کر آرام و آسائش کی زندگی بسر کرے، خوشی اور مسرت سے دن کاٹے لیکن جب لڑکیوں کی شادیاں بعض اغراض کے ماتحت نا مناسب جگہ کر دی جاتی ہیں وہ ہمیشہ کڑھتی اور غم وغصہ کا اظہار کرتی رہتی ہیں جس سے صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس