اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 141
141 باقی ہے وہ ہمیں مل بھی سکتا ہے۔اور نا امیدی کے معنے ہیں۔ہے تو سہی دُنیا میں بہت کچھ مگر ہمیں مل نہیں سکتا۔پس علم سیکھنا اور علم میں ترقی کرنا امید کے ساتھ وابستہ ہے۔اگر کسی کو امید ہوگی تو وہ علم سیکھے گا اور اگر نہیں ہوگی تو نہیں سیکھے گا۔ابلیس کے معنے یہی ہیں کہ اسنے علم حاصل نہ کیا۔اس نے سمجھا کہ جو کچھ پل سکتا تھا وہ مجھے مل گیا اور جو مجھے نہیں ملا وہ کسی کو نہیں مل سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی امید منقطع ہوگئی۔خدا تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ۔اس نے کہا کہ میں اس مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتا کہ علم سیکھوں۔استکبار کے معنے کسی چیز کو بڑا سمجھنے کے بھی ہیں۔اسنے اس کو بڑا سمجھا کہ یہ کہاں ممکن ہے یہ باتیں سیکھی جاسکیں۔چونکہ یہ سب ڈھکو نسلے ہیں اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ آدم کا شاگرد بنوں۔اس انکار علم کی وجہ سے وہ محروم ہو گیا اور محروم ہونے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ذلیل ہو گیا اور آدم جس نے علم حاصل کیا تھا اس کی نسل غالب آگئی۔اب بھی ہم دیکھتے ہیں دنیا میں عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ کا سلسلہ جاری ہے۔ایک قوم علوم کے حصول میں کوشش کرتی ہے اور نت نئی باتیں نکالتی رہتی ہے اور ایک دوسری کہتی ہے یہ کہاں ممکن ہے کہ کوئی نیا علم نکلے۔اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ علم میں ترقی کرنے والی قومیں غالب آرہی ہیں اور دوسری ذلیل ہورہی ہیں۔جب یورپ والے توپ اور بندوق کی ایجاد کر رہے تھے تو ایشیا والے کہتے تھے یہ کہاں ممکن ہے کہ کوئی ایسی چیز بھی بن سکے جو دور سے دشمن کو مارلے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ والے ترقی کر گئے۔پس یہ مجھتا کہ فلاں بات حاصل نہیں ہو سکتی انسان کو ابلیس بنا دیتا ہے اور پھر ایسے انسان سے دُنیا میں وہی سلوک ہوتا ہے جو آدم کے مقابلہ میں ابلیس سے ہوا۔جس طرح ابلیس کو نکال دیا گیا اُسی طرح ایسے انسانوں کو بھی دُنیا سے نکال دیا جاتا ہے اور دُنیا سے نکال دینے کا یہ مطلب ہے کہ ایسی قوم منادی جاتی ہے یا ذلیل اور خوار کر دی جاتی ہے۔اب چونکہ یورپ والے آدم کا کام کر رہے ہیں نئے نئے علوم دریافت کرتے اور تمام علوم کو ترقی دے رہے ہیں اس لئے وہ ترقی کر رہے ہیں اور وہ لوگ جو علوم کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نئے علوم نہیں نکالتے وہ مٹ رہے ہیں۔امریکہ کے اصلی باشندوں کو دیکھو ان کی کیا حالت ہے۔اسی طرح آسٹریلیا میں پرانی نسل کے کروڑوں انسان تھے مگر آب شاید چند ہزار رہ گئے ہوں گے۔عقلی طور پر ہندوستانیوں کا بھی یہی حال ہے گو وہ ہندوستان سے نکالے نہیں گئے مگر ان پر بھی حکومت انہی لوگوں کی ہے۔