اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 83

83 بولی جاتی تھی اور یہ تصویری زبان کہلاتی تھی۔لوگ اس سے مطلب سمجھ لیتے تھے۔اشارتی زبان ایسی اشارتی زبان میں وہ اشارات وغیرہ کی زبان بھی دخل ہے جو مثلا گونگوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔وہ اپنے خیالات اشارات سے ہی ظاہر کرتے ہیں یا لڑائیوں میں جھنڈیوں اور شیشوں سے کام لیتے ہیں۔گونگا اپنی بھوک پیاس کو ظاہر کرتا ہے یا سر پر ہاتھ رکھ کر اور آنکھیں بند کر کے بتاتا ہے کہ سونا ہے۔یہ اشارات ہم دیکھتے ہیں۔اشارات کی زبان سے بڑے بڑے کام لئے جاتے ہیں۔تار کی ساری زبان اشارات پر ہی موقوف ہے۔لاہور سے بالا کس طرح لفظ پہنچے گا ؟ مگر تار کے ذریعہ بٹالہ تو کیا لندن اور دنیا کے تمام حصوں میں خبر پہنچائی جاتی ہے۔اسی طرح جیسے میں نے کہا فوجوں میں کام لیا جاتا ہے۔شیشہ سے اشارہ کرتے ہیں یا جھنڈی سے بتاتے ہیں اور دوست کو روشنی سے اشارہ کرتے ہیں کہ دشمن کمزور ہے یا زبر دست ہے۔کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت ہے یا گولہ بارود کی حاجت ہے۔غرض بہت بڑے بڑے کام اس انشارتی زبان سے لئے گئے ہیں۔اگر صرف الفاظ یا تحریری تک ہی زبان محدود ہوتی تو کام رک جاتے۔غرض علم زبان سب سے مقدم ہے اور یہ تینوں علوم جداجدا ہیں مگر تقسیم علوم میں پہلا علم معلم زبان ہے اور یہ تینوں اُس کی مختلف شاخیں ہیں اور اپنے اندر وہ بھی ایک وسیع علم رکھتی ہیں۔زبان کے علم کے نیچے بعض اور مستقل علوم میں اُن کا تعلق گو زبان ہی سے ہے مگر علمی تقسیم میں ان کو الگ قرار دیا ہے اس لئے میں بھی اسے دوسر العلم کہتا ہوں۔علم بلاغت (۲) دوسرا علم علم بلاغت ہے۔یہ زبان سے تعلق رکھتا ہے۔بلاغت میں محض اظہار خیالات ہی مقصد نہیں ہوتا بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر ہوتا ہے۔جیسے بچہ روٹی کو توتی کہتا ہے یا ایک غیر زبان کا آدمی یا انگریز کہتا ہے۔کھانا مانگتا ہے۔مطلب تو اس سے سمجھ میں آجاتا ہے مگر زبان صحیح نہیں ہوتی۔زبان کا علم تو صرف اس قدر ظاہر کرتا ہے کہ خیالات ظاہر کر دئے مگر بلاغت کا علم اس سے بڑھ کر تین باتوں پر بحث کرے باتیں کتنے اقسام کی ہوتی ہیں۔مثلاً ایک بات سچی ہوتی ہے یا جھوٹی ہے۔یا کلام کو کس طرح دوسرے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔اسی طرح فقروں کی ترتیب پر بحث کرے گا کہ کس طرح ہر ایک بات زیادہ عمدگی سے بیان کی جاتی ہے۔مثلا ایک شخص کو کہیں کہ بڑا بہادر ہے لیکن شیر چونکہ بڑا بہادر ہوتا ہے اس لئے