اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 74
74 کہ پہلے لوگوں نے کیا معنے کئے ہیں۔تفسیروں کے علم میں بیسیوں تفسیریں ہیں اور ایک تفسیر بہت کی جلدوں میں لکھی گئی ہے یہاں تک کہ ایک تفسیر دو سو جلدوں میں ہے۔فرض سینکڑوں جلد میں مختلف تفسیروں کی ہیں اور بہت سی ان میں چھپ چکی ہیں اور بہت ہیں جو بھی نہیں چھپی ہیں۔پھر علوم قرانیہ میں تیسر اعلم اصول تفسیر کا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف کے معنے اور تفسیر کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔یہ ایک مستقل علم ہے۔۴۔پھر ایک قرآن کریم کے متعلق علم قراءت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے بعض الفاظ کو کسی جگہ سات سات طرز پر پڑھا ہے اور بعض جگہ دس دس طرز پر بھی پڑھا ہے۔یہ علم قراءت سے معلوم ہوتا ہے اور جولوگ اس کے عالم ہیں وہ جانتے ہیں یہ علم صرف قبائل کے لحاظ سے ہے۔عربوں کے مختلف قبیلے صلى الله اپنے لب ولہجہ کے لحاظ سے جس طرح پر ادا کر سکتے تھے اُن کی آسانی کے لئے نبی کریم ہے اجازت دیتے تھے۔پانچواں علم علم تجوید۔اس علم میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے الفاظ کو ادا کرتے وقت ٹھہر نا کہاں ہے اور کہاں لمبا کرنا ہے۔اس میں اعراب اور مند کے قواعد ہوتے ہیں۔چھٹا علم جمع القرآن ہے۔اس علم میں اس امر پر بحث ہوتی ہے کہ قرآن مجید انحضرت ﷺ کے زمانہ میں لکھا گیا یا نہیں اور لکھا گیا تو سارا لکھا گیا ؟ اہل یورپ نے جمع قرآن پر اعتراضات کئے ہیں۔اس علم کے ذریعہ اُن اعتراضات کا جواب دیا جاتا ہے۔ساتواں علم تاریخ نزول و تربیت قرآن کریم ہے۔قرآن کریم کی آیات اس وقت تو ملی جلی ہیں۔اس علم کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کونسی آیت کس وقت اتری۔سی ایک مستقل علم ہے۔آٹھواں علم حل اخت قرآن بالقرآن ہے۔قرآن کریم اپنے الفاظ کے معنے خود کرتا ہے۔یہ علم بھی ایک مستقل علم ہے۔غرض قرآن کریم کے متعلق یہ آٹھ علم ہیں۔تیسر اعلم علوم اسلامیہ میں سے علم الحدیث ہے اس کی بھی کئی شاخیں ہیں۔(۱) خود حدیث ہے نبی کریم ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حدیث ہے۔اس کا ایک حصہ وہ ہے جس کو روایت