اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 73
73 چوتھا علم علم العقائد میں نبوت اور رسالت ہے۔اس کے بھی مختلف پہلو ہیں۔اصلاح کے لئے جو آتے ہیں کیا وہ خدا ہوتے ہیں۔یا آدمی ہوتے ہیں؟ کس غرض کے لئے آتے ہیں؟ کس حد تک وہ کام کر کے جاتے ہیں؟ ان کی صداقت کی کیا علامات ہوتی ہیں؟ ان کی زندگیاں کیا اثر رکھتی ہیں؟ یہ بھی ایک وسیع علم ہے۔پانچواں علم علم العقائد میں دعا ہے۔یہ مضمون بھی وسیع علم ہے۔دُعا کیا چیز ہے؟ دعا قبول ہوتی ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہوتی ہے تو کس طرح؟ ساری قبول ہوتی ہے یا تھوڑی ؟ اور اگر قبول ہوتی ہے تو اس کے کیا نشانات ہیں؟ اور کس طرح معلوم ہو کہ دُعا قبول ہوگئی ؟ پھر یہ کہ کن الفاظ اور کس حالت میں دُعا قبول ہوتی ہے؟ غرض دُعا کے مختلف پہلو اور سوال ہیں۔علم العقائد میں تقدیر کا ہے۔یہ علم بھی بڑا وسیع اور نازک ہے۔اس کے مختلف پہلو ہیں۔مثلاً کیا انسان کو خدا تعالیٰ نے ایسا پیدا کیا ہے کہ جس قدر اعمال وہ کرتا ہے سب خدا ہی کراتا ہے یا انسان کا بھی اس میں اختیار ہے ؟ اگر انسان کا دخل نہیں تو پھر اسے سزا کیوں دیتا ہے؟ اس کے متعلق بھی میری تقریر سالانہ جلسہ پر ہو چکی ہے۔ساتواں علم علم العقائد میں بعث بعد الموت ہے۔یہ علم بھی بڑا وسیع ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں۔کیا مرنے کے بعد انسان زندہ ہوگا ؟ پھر اگر زندہ ہو گا تو یہی جسم ہو گا یا صرف روح ہوگی ؟ اور اُٹھے گا تو کس طر ح ؟ اگر صرف روح ہوگی تو کیونکر اٹھے گا۔جسم ہوگا تو کیونکر؟ پہلے لوگ جو مر چکے ہیں کیا وہ اٹھ چکے ہیں یا باقی ہیں؟ کیا بعد میں آنے والے بھی اس کے ساتھ شامل ہو جائیں گے؟ آٹھواں علم علم العقائد میں مسئلہ نجات یا فلاح ہے۔اس مسئلہ پر اس سال میں نے تقریر کی ہے۔اس میں میں نے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر بیان کیا ہے کہ نجات کیا چیز ہے اور کیا وہ مرنے کے بعد ہوگی یا اسی زندگی میں؟ پھر مرنے کے بعد جو انعام ہو گا وہ ہٹ جائے گا یا ہمیشہ رہے گا ؟ ایسا ہی سزا کے متعلق کہ وہ ہمیشہ رہے گی یا ایک وقت خاص تک غرض اس کے مختلف پہلو ہیں اور ان پر میری تقریر میں بحث ہے۔علوم اسلامی میں دوسرا علم قرآن کریم ہے کیونکہ یہ وحی الہی ہے۔قرآن کریم بجائے خود بہت سے علوم کا مجموعہ ہے اور اس کے کئی حصے ہیں۔اول متن پڑھنا اور اس کو سمجھنا ہے۔دوم علم تفسیر۔اس سے یہ مطلب ہے