اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 1

1 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم مائیں اپنے بچوں کو با اخلاق بنائیں بعض لوگ بچوں کو چڑاتے ہیں اور ان کے سامنے ہاتھ اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ماڑوں۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک دو دفعہ کے بعد بچہ وہی شکل بنا کر اسی طرح ہاتھ اٹھا کر کہنے لگ جاتا ہے ماڑوں۔بعض احمق بچوں کو پیار سے گالیاں دیتے ہیں بچے آگے سے اُسی طرح گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔بعض عورتیں اپنے بچوں سے ہمیشہ منہ بنا کر اور تیوری چڑھا کر بات کرتی ہیں تو ان کے بچے بھی ہمیشہ منہ پھلا کر بات کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔اس کے برخلاف جو عورتیں ہنس لکھ ہوں۔بچوں سے نیک سلوک کی عادی ہوں اُن کی اولا د بھی ویسی ہی ہنس مکھ ہوتی ہے۔ماؤں کو چاہیئے کہ بچوں سے ایسا سلوک کریں جس کو نقل کرنے پر وہ ساری عمر ذلیل وخوار نہ ہوں ہمیشہ کے لئے اُن کے اخلاق درست ہو جائیں۔( الفضل ۳- ستمبر ۱۹۱۳ء ) خود نیک بنو تا تمہارے بچے بھی نیک بنیں بے دین اور دین سے متنفر وہی بچہ ہو گا (الا ماشاء اللہ ) جس کے والدین اس کے سامنے دین کا استخفاف کرتے ہوں۔ماں اگر نماز نہیں پڑھتی ، نماز کے اوقات کا احترام محوظ نہیں رکھتی تو ضرور ہے کہ بیٹا بھی بڑا ہو کر ایسا ہی کرے۔جس بچے کے ماں باپ نمازی ہوں میں نے اکثر دیکھا ہے کہ وہ باوجود کچھ نہ لکھنے کے اسی طرح نماز کے وقت پر نماز کی رکعتیں پڑھتے ہیں۔یہ عادت ایسی مبارک ہے کہ جوانی میں آخر کام آتی ہے۔اور یہ ابتدائی بیج اپنے اندر ایسے خوشگوار ثمرات رکھتا ہے کہ بڑی عمر میں ڈھیروں روپیہ خرچ کرنے پر بھی یہ عمل نہیں ہوتا۔جب کوئی چیز آئے تو ماں بچے کو سکھائے کہ یہ اللہ میاں نے بھجوائی ہے جو ہمیں رزق دیتا ہے ،