اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 56
56 طرح کر لو۔اُنہوں نے کہا تو کون ہوتی ہے میرے معاملے میں دخل دینے والی۔اُن کی بیوی نے کہا جب رسول کریم کی بیویاں اُن کو مشورہ دیدیتی ہیں تو اگر میں نے دیدیا تو کیا حرج ہے۔حضرت عمر اُسی وقت اپنی لڑکی کے پاس جو کہ رسول کریم سے بیاہی ہوئی تھی دوڑے گئے اور پوچھا کہ کیا تم رسول کریم کے معاملے میں دخل دیا کرتی ہو۔وہ کہنے لگیں۔ہاں نہ حضرت عمر نے انہیں کہا یہ بہت بُری بات ہے تم پھر اس طرح کبھی نہ کرنا۔اُن کی پھوپھی نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے کہا تم کون ہوتے ہو رسول کریم کے گھر کی باتوں میں بولنے والے یہ تو اُس زمانے میں عورتوں کو بیلوں کی طرح سمجھتے تھے مگر رسول کریم خود عورتوں سے مشورہ لیا کرتے تھے۔عورت سے مشورے کی وجہ سے ایک مشکل کا حل ہونا ایک دفعہ رسول کریم نے رویا میں دیکھا کہ آپ کمرہ کر رہے ہیں۔آپ کو خیال پیدا ہوا کہ شاید ای سال عمرہ کرنا ہے۔چونکہ مکہ والے ستاتے تھے اور مدینہ والے جانہیں سکتے تھے یہ رویا سنکر کئی ہزار آدمی آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئے کئی ہزار کے مجمع کو ساتھ لے کر رسول کریم جب مکہ کے پاس پہنچے تو مکہ والوں نے کہا کہ ہم ہر گز نہیں جانے دیں گے۔لوگ کہیں گے کہ محمد ( رسول اللہ ) کئی ہزار کے مجمع کو لے کر گئے تو مکہ والے ڈر گئے ہماری تو ناک کٹ جائے گی۔کئی تدبیریں کی گئیں اور فیصلہ کی یہ صورت ہوئی کہ دونوں طرفوں کے بڑے بڑے سردارا کھٹے ہو کر فیصلہ کریں۔آخر فیصلہ کرنے سے یہ بات قرار پائی کہ مدینہ والے اس سال چلے جاویں اور اگلے سال آویں۔اس فیصلہ سے صحابہ کرام بہت رنجیدہ ہوئے کہ رسول کریم نے کفار کی یہ شرط کیوں مان لی ہے۔پھر رسول کریم نے فرمایا کہ قربانی کے لئے جو کچھ لائے ہو یہیں پر قربان کر دو مگر کوئی نہ اُٹھا۔حتی کہ رسول کریم نے تین دفعہ کہا مگر پھر بھی سب بیٹھے رہے۔یہ حال دیکھ کر رسول کریم کو بہت فکر ہو ا کہ کہیں اس واقعہ سے لوگوں پر ابتلاء نہ آجاوے۔آخر آپ اُٹھ کر گھر گئے اور اپنی ایک بیوی سے پوچھا کہ کیا کیا جاوے یہ آج پہلی دفعہ ہے کہ میں بات کہوں اور لوگ نہ کریں۔آپ کی بیوی نے کہا آپ آب ان سے کچھ نہ کہیں سید ھے چلے جاویں اور جا کر اپنی قربانی کے گلے پر چھری پھیر دیں۔چنانچہ آپ گئے اور اپنے اونٹ کے گلے پر نیزہ مارا یہ دیکھ کر سب لوگ اس طرح کھڑے ہوئے کہ ہر ایک ہی چاہتا تھا کہ مجھ سے کوئی اور پہلے نہ ہو جائے کیونکہ اُن کے صرف دل ٹوٹے ہوئے تھے۔رسول کریم کو قربانی کرتے دیکھ کر سب اُٹھ