اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 445

445 خطبہ جمعہ فرموده ۲۷۔جولائی ۱۹۲۳ء تھوڑا عرصہ ہوا میں نے اسی مسجد میں کھڑے ہوکر اپنا منشاء ظاہر کیا تھا کہ برلن میں مسجد تعمیر کی جائے اور یہ بھی کہا تھا کہ گو ہماری جماعت پہلے ہی کمزور ہے اور اخراجات کا بہت بوجھ اٹھائے ہوئے ہے مگر اس کا بھی جو کمزور حصہ ہے اس کے سرمائے سے مسجد بنے۔گویا دنیا میں سب سے زیادہ کمزور جماعت جو ہے اس کا بھی کمزور حصہ ( یعنی مستورات جو اس لحاظ سے بھی کمزور ہیں کہ ان کی کوئی علیحدہ کمائی نہیں ہوتی اور اس لحاظ سے بھی کہ مردوں جتنا علم نہیں ہوتا ) یہ اس کام کو کرے۔تا کہ یہ ایک زبر دست نشان ہو۔جب میں نے عورتوں میں یہ تحریک کی تو ہماری جماعت کے بعض لوگ بھی سمجھے کہ اتنا روپیہ نہ جمع ہو سکے گا۔پہلے میں نے تمیں ہزار کا اندازہ لگایا تھا لیکن تحریک کرنے کے وقت پچاس ہزار کر دیا جسے ہماری جماعت کے لوگوں نے بھی بہت بڑی رقم سمجھا۔اور جب یہ رقم ۲۰ ہزار کے قریب وصول ہو چکی تو غیر اخباروں نے حیرت اور استعجاب کے ساتھ اس کا ذکر کیا اور لکھا کہ احمدی عورتوں نے اس قدر رو پیہ جمع کر دیا ہے۔پھر ابھی و مدت مقررہ گزری نہ تھی جو اس چندہ کی فراہمی کے لئے مقرر کی گئی تھی کہ مطلوبہ رقم سے زیادہ روپیہ یعنی ۲۰ ہزار جمع ہو گیا۔اس کے بعد میں نے ایک اور اعلان کیا جس میں لکھا کہ روپیہ کی ابھی اور ضرورت ہے۔اب اگر وعدے وغیرہ بھی ملالئے جائیں تو ستر ہزار کے قریب چندہ ہو گیا۔یہ اس جماعت کے کمزور قصہ کا کارنامہ ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے کمزور ہے۔ہماری جماعت کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں کیا ہے۔کچھ بھی نہیں۔لیکن اگر عام مسلمانوں میں بھی اعلان کیا جاتا کہ ان کی عورتیں تین ماہ کے عرصہ میں اس قدر چندہ دیں تو اگر چہ ان میں کروڑ پتی اور لاکھ پتی بھی ہیں۔نواب اور راہے بھی ہیں تو بھی آسانی سے اتنا چندہ جمع نہ ہو سکتا۔۔۔(الفضل ۳- اگست ۱۹۲۳ ص ۸)