اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 434

434 کوئی قانون نہیں ہے۔فطرت نے جو مادہ اس کے اندر رکھ دیا ہے اس کے ماتحت وہ اپنے بچہ سے سلوک کرتی ہے۔در حقیقت یہ رشتے قانون اور قاعدے کے نہیں ہوتے۔اگر مردعورت کے تعلقات کی بنیاد محبت پر ہو تو کوئی الجھن پیدا نہیں ہوتی۔لوگ اپنے لڑکے لڑکیوں کے رشتے کرتے ہیں تو شرائط لکھواتے ہیں۔میں نے اکثر دیکھا ہے جو لوگ شرائط لکھواتے ہیں وہی زیادہ مقدمات بھی کرتے پھرتے ہیں۔اس قسم کے شرائط ہمیشہ فتنہ وفساد پیدا کرتے ہیں۔اگر مرد و عورت کے تعلقات جذبات شریفہ پر قائم رہیں تو ان کی گاڑی اچھی چلتی چلی جائے گی۔جب جذبات شریفہ نہیں رہیں گے تو فتنہ وفساد بڑھتے چلے جائیں گے۔شرائط اور قواعد تو حالات کے بدلنے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ہاں اگر بنیاد محبت پر قائم ہو تو کوئی شرائط قائم نہیں رہ سکتیں۔اور اگر شرائط قائم رہیں تو محبت قائم نہیں رہتی۔دونوں میں سے ایک چیز ضرور نو نے گی۔جب خدا تعالیٰ نے مرد کی اہمیت عورت کے لئے اور عورت کی اہمیت مرد کے لئے قائم کر دی۔تو عورت اپنے جذبات کے ماتحت یہ محسوس کرتی ہے کہ مرد کے بغیر گزارہ نہیں۔مرد محسوس کرتا ہے کہ عورت کے بغیر گزارہ نہیں۔یہ جذبات بتلا رہے ہیں کہ ایسے شرائط طے کرنے والے احمق ہوتے ہیں۔جذبات کے لئے قانون بنانا ایک حماقت ہے۔اس کا قانون تو اس وقت بنا دیا گیا تھا جب آدم کا خمیر بن رہا تھا۔ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم جذبات صحیحہ اور جذبات شریفہ کو بیدار کرتے رہیں۔ماں اپنے بچے کی اچھی طرح نگہداشت اور تربیت کرنا جانتی ہے۔اب اگر اس کے بچے کے لئے قانون بنادیا جائے کہ پانچ گھنٹے کے بعد اس کا بستر بدلا جائے تو وہ بچہ جسے اسہال کی بیماری ہے کس طرح پانچ گھنٹے ایک بستر میں رہ سکتا ہے۔خدا تعالے نے ماں کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے وہ سب کچھ خود کر سکتی ہے۔بے وقت ہونے والی چیز کے لئے جب بھی قانون بنا دیا جائے گا وہ ہمیشہ انسان کو خراب کرے گا۔پس انسانی زندگی سے متعلق قانون بنانے کی ضرورت نہیں۔اسی طرح بعض مخصوص قسم کی تعلیمات کی عورتوں میں ضرورت ہے۔اس لحاظ سے بعض لیکچر عورتوں میں مفید ہوتے ہیں۔مخصوص تعلیم کے لحاظ سے گزشتہ سے پیوستہ سال میں نے تحریک کی کہ لجنہ اماءاللہ قائم کی جائیں۔اس وقت چالیس پچاس لجنات تھیں اس وقت سوا دو سو قائم ہو چکی ہیں۔مردوں کی جماعتیں ہزار کے قریب ہیں۔اگر مساوات کا قانون عورتوں کے لئے ہے تو اس کے برابر لبنات ہونی چاہئیں۔اگر آدھا ہو تو پھر بھی پانچ سو ہونی چاہئیں۔