اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 36

36 صلى الله الله نہیں۔انہوں نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑالشکر موجود ہے جو کہ کوتباہ کرنا چاہتا ہے تو تم مان لو گے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم مان لیں گے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا عذاب تم پر آنے والا ہے تم اس سے بچ جاو اور شرک کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب کے مستوجب نہ بنو۔یہ بات سنکر وہ گالیاں دیتے چلے گئے اور کہنے لگے یہ تو سودائی ہو گیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے اس کی کوئی پروانہیں کی اور پہلے کی طرح اُن کو شرک سے روکتے رہے۔اس پر لوگ جمع ہو کر رسول کریم ﷺ کے چچا کے پاس گئے اور جا کر کہا اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ یہ ہمارے بتوں کی مذمت کرتا ہے باز آ جائے۔رسول کریم لے کے چانے لوگوں سے کہہ دیا کہ جو بات وہ بچے دل اور پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے وہ کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔آخر بڑے بڑے لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ لوگ رسول اللہ اللہ کے پاس جائیں اور جا کر کہیں کہ جو تم کہو گے مان لیں گے لیکن تم بہوں کے خلاف کہنا چھوڑ دو۔چنانچہ لوگ گئے اور جا کر کہا کہ ہم قوم کی طرف سے آئے ہیں اور تم بہت اچھے آدمی ہو ہم نہیں سمجھتے تم قوم کو تباہ ہونے دو گے ہم تمہارے پاس ایک پیغام لائے ہیں اس کو قبول کرو تا کہ تفرقہ نہ پڑے اور ہماری قوم تباہ نہ ہو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا سناؤ کیا پیغام لائے ہو۔انہوں نے کہا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تمہیں مال کی ضرورت ہو تو ہم تمہیں مال جمع کر کے دیدیں اور اگر تم کسی اعلے گھرانے میں رشتہ کرنا چاہتے ہو تو امیر سے امیر گھرانے کی اچھی سے اچھی عورت سے رشتہ کرا دیتے ہیں اور اگر یہ چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری باتیں مانیں تو ہم لکھ دیتے ہیں کہ جس طرح سے تم کہو گے اُسی طرح ہم کریں گے، اگر تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں مگر تم یہ نہ کہو کہ ایک ہی خدا ہے اور کوئی معبود نہیں ہے۔اس کا جواب رسول کریم نے نے کیا دیا ؟ یہ کہ اگر تم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر بھی رکھ دو تو پھر بھی میں تمہاری یہ بات نہ مانوں گا۔رسموں کو چھوڑ دو مگر عورتیں کہتی ہیں اگر ہم نے فلاں رسم نہ کی محلہ والے کیا کہیں گے۔اب تو رسمیں کم ہوتی ہیں تا ہم ہندوؤں کی رسمیں جو مسلمانوں میں آگئی ہیں اُنکے متعلق سوچنا چاہیئے کہ اُن کا کیا فائدہ ہے۔عقلمند انسان وہی کام کرتا ہے جس میں کوئی فائدہ ہو مگر آجکل بیاہ شادیوں میں جو رسمیں کی جاتی ہیں انکا کیا فائدہ ہوتا ہے کچھ بھی نہیں۔صرف اس لئے کی جاتی ہیں کہ ہمارے باپ دادا کی رسمیں ہیں۔مگر جن لوگوں میں الله