اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 420

420 اس گھر کی طرف چل پڑے۔جب آپ رسول کریم ہے کے مکان پر پہنچے اور دستک دی تو صحابہ نے دروازوں کی دراڑوں میں سے دیکھ کر رسول کریم ﷺ کو بتایا کہ باہر عمر تلوار لئے کھڑے دستک دے رہے ہیں اور مشورہ دیا کہ اس وقت دروازہ کھولنا مناسب نہ ہوگا لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔کوئی حرج نہیں تم دروازہ کھول دو۔حضرت عمرؓ اسی طرح تلوار لئے اندر داخل ہوئے رسول کریم علیہ آگے بڑھے اور عمر کا گریبان پکڑ کر کھینچا اور فرمایا عمر تمھارے بد ارادے ابھی تک بدلے نہیں۔حضرت عمرؓ نے آنکھیں نیچی کر لیں اور کہا یا رسول اللہ ! میں کسی بد ارادے سے نہیں آیا بلکہ آپ کے غلاموں میں شامل ہونے آیا ہوں۔ران کلمات کا سننا تھا کہ مسلمانوں نے جوش سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا جس سے مکہ کی فضا ایک سرے سے دوسرے سرے تک گونج گئی۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کا اسلام لانا ایک عورت کی تبلیغ اور قربانی کے نتیجہ میں تھا۔اور جو جو کام حضرت عمر نے اسلام لانے کے بعد کئے ان میں حضرت عمر کی بہن برابر کی شریک تھیں کہ آپ کے اسلام لانے کا وہی موجب ہوئیں۔رسول کریم نے کو ہجرت کی تحریک کرنے کے لئے جو وفد مدینے سے رسول کریم اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وفد میں ایک عورت بھی تھی جو اصرار کے ساتھ اس وفد میں شامل ہوئی تھی۔یہ وفد رسول کریم کو رات کے ایک بجے ملا اُس وقت بھی وہ عورت اس وفد کے ساتھ تھی۔اس وفد نے رسول کریم سے یہ خواہش ظاہر کی کہ آپ جب بھی ہجرت کریں تو مدینہ تشریف لائیں۔یہ عورت اس جوش اور اخلاص کی مالک تھی کہ ہمیشہ جہاد میں حصہ لیتی اور اپنی اولاد کی اس طرح تربیت کی کہ وہ اسلام کے جانثار سپاہی ثابت ہوئے۔جب رسول کریم ﷺ نے ہجرت کا ارادہ کیا اس وقت بھی آپ کی ہجرت میں ایک عورت نے خاص طور پر حصہ لیا۔رسول کریم ہے کے لئے مکہ سے روانگی کے وقت آخری کھانا حضرت عائشہ کی بڑی بہن اسماء نے بنایا۔اس زمانہ میں کپڑے بہت کم ہوتے تھے۔عورتوں کے پاس ایک ہی بڑی سی چادر ہوتی تھی جس کو وہ ساڑھی کی طرح اپنے ارد گرد لپیٹ لیتی تھیں۔بہت سے مردوں کو ایسی چادر بھی نہیں ملتی تھی وہ صرف تہ بندی باندھتے تھے۔حضرت اسماء جس وقت رسول کریم ہے کے لئے کھانا باندھنے لگیں تو انہیں کوئی کپڑا نہ