اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 415

415 جب ہم تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ دو نبی ایسے ہیں جن کی تاریخ محفوظ ہے۔ان میں سے ایک نبی کی تاریخ بہت ہی محفوظ ہے اور وہ رسول کریم تے ہیں۔آپ کی زندگی کے تمام حالات کچے طور پر محفوظ ہیں اور دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ان کی زندگی کے چند سالوں کے تفصیلی حالات موجود ہیں۔ان کے زمانہ ء نبوت کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں عورتوں نے قربانیوں میں بہت خاصہ حصہ لیا۔حضرت عیسے علیہ السلام کے حواریوں میں سے بعض عورتیں بھی تھیں جو اپنا دن رات تبلیغ میں صرف کرتی تھیں۔عیسائی عورتیں آج تک اُن عورتوں کی قربانی پر فخر کرتی ہیں۔حضرت عیسے علیہ السلام کو صلیب کے تختے سے جب اُتارا گیا تو انہیں ایک قبر میں رکھا گیا جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئی تھی کہ میں تین دن رات قبر میں رہنے کے بعد زندہ باہر نکلوں گا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب قبر سے باہر نکلے تو ان کے ملنے کے لئے عورتیں ہی پہلے وہاں پہنچیں۔مرد تو ڈر کے مارے بھاگ چکے تھے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس صبح سویرے ہی مریم مگر لینی اور اس کے ساتھ دو اور عور تیں پہنچ گئیں اور وہ حکومت کے ڈر سے مرعوب نہ ہوئیں۔اس موقع پر مردوں سے بڑھ کر عورتوں نے جو دلیری دکھائی اور ایمان کا نمونہ دکھایا عیسائی عورتیں اس پر فخر کرتی ہیں۔اس کے بعد رسول کریم والے کے زمانہ کی عورتوں نے قربانی کا جو نمونہ قائم کیا اُس کی نظیر آج تک نہیں ملتی اور ان قربانیوں کو پڑھ کر ایک مسلمان کا دل وجد کرنے لگتا ہے کہ اس کی مائیں اور دادیاں کس شان کی عورتیں تھیں اور انہوں نے کیسا اعلے معیار قربانی کا قائم کیا۔اس میں شبہ نہیں کہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے والی یہ صحابیات عرب تھیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ اکثر مسلمان عرب نہیں۔لیکن مذہب کے لحاظ سے رسول کریم ہونے کی صحابیات ہر مسلمان کی مائیں اور دادیاں ہیں۔چنانچہ اللہ تعالے قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کو تمام مسلمانوں کا باپ قرار دیتا ہے۔اس لحاظ سے آپ صرف عرب کے مسلمانوں کے ہی باپ نہیں بلکہ آپ مسلمان پٹھانوں کے بھی باپ ہیں، مسلمان راجپوتوں کے بھی باپ ہیں، مسلمان جانوں کے بھی باپ ہیں، بلکہ آپ اونی اقوام سے مسلمان ہونے والوں کے بھی باپ ہیں۔ہر ایک شخص جو کلمہ پڑھتا ہے اس کے آپ باپ ہیں۔اسی طرح آپ کی صحابیات آپ کے زمانہ کے لوگوں کی مائیں اور بہنیں تھیں اور اس زمانہ کے مسلمانوں کی دادیاں ہیں۔جب ایک مسلمان ان واقعات کو پڑھتا ہے تو وہ جو حیرت ہو جاتا ہے کہ میری دادیاں کیسی شان دار قربانی کرنے والی تھیں۔