اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 365
365 تھے۔انہوں نے جاتے ہی دروازہ کھٹکھٹایا۔انہوں نے جواب دیا ٹھہر وکھولتے ہیں اول تو گھر کا دروازہ بند ہونا ہی بہت بڑی بات تھی پھر ان کا یہ کہنا کہ ٹھہر کھولتے ہیں حضرت عمر کا شبہ بہت بڑھ گیا۔پوچھا کہ دروازہ کیوں بند کیا تھا۔کہنے لگے یونہی۔حضرت عمر نے کہا تمھاری آوازیں آ رہی تھیں اور آگے بڑھ کر بہنوئی کو مارنا شروع کر دیا۔ان کی بیوی خاوند کی محبت کی وجہ سے برداشت نہ کر سکیں آگے آ کر کھڑی ہو گئیں۔کہنے لگیں کہ مارنا ہے تو مجھے مارو میں تمھاری بہن ہوں ان کو کیوں مارتے ہو۔حضرت عمرؓ نے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہوا تھا اور وہ آگے کی طرف حرکت کر رہا تھا رک نہ سکا اور پورے زور کے ساتھ ان کی بہن کے منہ پر لگا اور ناک سے خون بہنے لگا۔ایک بہادر آدمی کے لئے یہ چیز پریشان کر دینے والی تھی۔بہن کا خون دیکھ کر ان کا غصہ اتر گیا اور کہنے لگے بہن معاف کرنا غلطی ہو گئی۔جب دیکھا کہ بہن کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تو کہنے گئے اچھا وہ جو سن رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ بہنوئی تو کچھ ڈرے مگر وہ صحابی جو سنارہے تھے جوش سے باہر نکلے که عمر جیسا انسان قرآن شریف سننے کے لئے تیار ہے۔حضرت عمرؓ نے ورق کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ ان کی بہن نے ورق ہاتھ سے چھین لیا اور کہا کہ نا پاک ہاتھ نہ لگاؤ پہلے قبل کرو اور پھر اس پاک کلام کو ہاتھ لگاؤ۔ندامت اور شرمندگی تھی۔نہائے۔اس کے بعد آیت پڑھی تو دل نرم ہوا، دوسری پڑھی اور نرم ہوا، تیسری پڑھی تو اور حالت ہوئی ، چوتھی پڑھی تو اور ، پانچویں پڑھی تو دل کی حالت اور ہوئی ، چھٹی پڑھی تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔سورۃ ختم ہوئی تو خاموشی سے اٹھے اور رسول کریم والے کے پاس پہنچے۔ان کا بھی دروازہ بند تھا دستک دی۔کسی نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا عمر بن الخطاب۔عمر مکہ کے بہادر اور لڑا کے آدمی تھے۔صحابہ نے آواز سنتے ہی عرض کیا یا رسول اللہ سمراڑا کا آدمی ہے دروازہ نہ کھولنا چاہیئے۔رسول کریم والے نے فرمایا کھول دو۔رسول کریم نے کے چا حضرت حمزہ بہت بہادر سپاہی تھے انہوں نے کہا درواز کھول دو میں دیکھوں گا عمر کس طرح گستاخی کا معاملہ کرتا ہے۔عمر مجرموں کی طرح داخل ہوئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔عمرکس طرح آئے ہو؟ کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ کا غلام ہونے آیا ہوں۔صحابہ نے سنتے ہی اس قدر زور سے تکبیر کا نعرہ بلند کیا کہ مکہ گونج اٹھا۔تو مسلمان اتنے تنگ تھے کہ کھلے بندوں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔اس وقت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اے محمد میں تجھے ہر چیز کی کثرت دوں گا۔اتنی قوتیں تیرے مذہب میں داخل