اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 348

348 کہ تم پر خدا کی طرف سے سلامتی نازل ہو۔پھر فرمایا:۔اَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً كَلِمَة طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِت وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أكلها كُلَّ حِينِ بِاِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللهُ إِلَّا مُثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونْ ان آیات کے شروع میں اللہ تعالے نے بتایا تھا کہ جنت میں ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کرنے والے جائیں گے۔آب کہنے کو تو سارے ہی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور جس کو پوچھو وہ کہتا ہے میں خدا کے فضل سے مسلمان ہوں۔مگر اللہ تعالے فرماتا ہے محض زبان سے اپنے آپ کو مومن کہہ لینے سے کوئی شخص مومن نہیں ہو جاتا۔تمھیں یا درکھنا چاہئے کہ ایمان با اللہ اور اعمال صالح کی مثال اچھے درخت کی ہی ہے۔جس طرح دنیا میں پھل دار درخت توجہ چاہتے ہیں اور کوئی شجرہ طیبہ نہیں پھلتا جب تک کہ اسے پانی نہ ملے اور جب تک اس کی نگرانی نہ کی جائے سوائے جنگلی درختوں کے۔اسی طرح صرف منہ سے ایمان اور اعمال صالحہ کا دعوے کرنا ٹھیک نہیں ہوتا۔یہ کبھی نہیں ہوتا کہ جنگلی درختوں میں اعلیٰ قسم کے پھل لگے ہوں۔اعلے قسم کے پھل ہمیشہ اعلے درختوں پر لگتے ہیں اور اعلیٰ درخت انسانی کوشش سے پھل لاتے ہیں۔پس ایمان اور اعمال صالحہ کی مثال شجرہ طبیہ یعنی اصلے قسم کے درختوں کی کی ہے جنگلی درختوں کی نہیں۔اور یہ شجرہ طبیہ اعمال صالحہ کے پانی کے بغیر پھل نہیں دیتا۔جس طرح درخت ہونے کے بعد اگر اسے پانی نہ دیا جائے تو وہ خراب ہو جاتا ہے لیکن اگر اسے پانی ملتا ہے تو وہ عمدہ پھل دیتا ہے اور اس کی عمر بھی لمبی ہوتی ہے۔اسی طرح خالی ایمان پر خوش نہ ہو جاؤ بلکہ سمجھ لوکہ شجر طفیہ پانی چاہتا ہے جب تک اسے اعمال صالحہ کا پانی نہ ملے گا وہ شجر طیبہ نہ بن سکے گا۔پس صرف کلمہ پڑھ کر تمھیں خوش نہیں ہو جانا چاہئے جب تک لاإله إلا اللہ کے درخت کو اعمال صالحہ کا پانی نہ دو گی تمھارا درخت پھل نہیں لائے گا بلکہ خشک ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح درخت کئی قسم کے ہوتے ہیں اسی طرح لا اله الا اللہ بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔کوئی اچھے ہوتے ہیں اور کوئی سڑے ہوئے ہوتے ہیں۔قرآن شریف میں سڑے ہوئے کلمہ کی مثال اس طرح دی گئی ہے کہ