اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 333

333 عادت پڑ جاتی ہے۔وہ مجھتے ہیں کہ جب ہماری ماں جھوٹ بولتی ہے تو ہم اس سے زیادہ کیوں نہ بولیں۔ایک قصہ مشہور ہے کہتے ہیں دو دوستوں نے آپس میں کہا کہ اپنے اپنے خاندان کی کوئی بات سُناؤ۔اس پر ایک کہنے لگا کہ اب تو وہ بات نہیں رہی ہم تو بڑے رئیس ہوا کرتے تھے۔چنانچہ ہمارے نانا کا اتنا بڑا طویلہ تھا کہ جب قحط پڑا کرتا تو سارے شہر کے جانور اس کے ایک کونے میں سما جاتے۔دوسرا کہنے لگا ہمارے نانا جان کے پاس ایک ایسا بانس تھا کہ کبھی بارش نہ ہوتی تو وہ بانس سے بادلوں کو چھید کر بارش برسا لیتے۔دوسرے کو غصہ آگیا کہنے لگا تمہارے نانا جان یہ بانس رکھا کہاں کرتے تھے۔وہ کہنے لگا تمہارے نانا جان کے طویلہ میں۔اب دیکھو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو ان دونوں نے بولا۔تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے ایک اور قصہ پڑھا ہے کہ ایک رنگریز کی لڑکی سکول میں داخل ہوئی۔اُدھر سے ایک حلوائی کی لڑکی بھی داخل ہوئی۔اُس نے اُس سے پوچھا کہ تم کون ہو تو حلوائی کی لڑکی کہنے لگی کہ میرے لیا ڈپٹی ہیں۔دوسری کہنے لگی کہ میرے لیا بڑے بینکر ہیں۔ساہوکارہ کا کام ہے اور بیسیوں ہمارے مکان ہیں۔ایک دفعہ اُس نے اپنی سہیلی کی دعوت کر دی۔اب بینکر کی لڑکی کے ہاں نوکر تو تھے نہیں اُسنے اپنے بھائی بہنوں کو نوکر بنایا، پیسٹری رکھی جلیبیاں منگوائیں ، بازار سے چائے کے برتن منگوائے اور جب ڈپٹی کی لڑکی آئی تو دونوں طرف سے باتیں ہونے لگیں۔ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک ہمسائی آئی۔جب اُس کی نظر دوسری لڑکی پر پڑی تو کہنے لگی یہ تو ہمارے رنگریز بھائی کی لڑکی ہے۔حلوائی کی لڑکی کہنے لگی یہ تو بینکر کی لڑکی ہے وہ کہنے لگی ٹینکر کی بیٹی ہے، یہ تو ہمارے محلہ کے فلاں رنگریز کی لڑکی ہے۔تو یہ پاکھنڈ محض اس لئے بنایا کہ وہ اس کو امیر سمجھے اور یہ اُس کو۔تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ النُّور۔مومن جھوٹ سے الگ رہتا ہے۔اگر اُسے پتہ لگے کہ فلاں نے جھوٹ بولا ہے تو اُس کی دوستی چھوڑ دیتا ہے اور وہ کسی جھوٹے سے تعلق نہیں رکھتا۔اور گو اس تعلیم کے مرد بھی مخاطب ہیں مگر عورتیں اس کی زیادہ مخاطب ہیں۔اسی وجہ سے بیعت کی شرطوں میں آپ جھوٹ سے بچنے کے عہد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔پہلے بیعت کے الفاظ یہ تھے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھو گی مگر اب اس کے ساتھ یہ زیادہ کر دیا گیا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گی۔پس تم اپنے دلوں میں یہ قرار کرو کہ جھوٹ نہیں بولوں گی۔جھوٹ کے یہ معنے نہیں کہ تم ہر ایک کو اپنی بات بتلاؤ۔مثلا اگر کسی چور کی بیوی تمہارے پاس راز لینے آتی ہے تو تم اس سے کہہ سکتی ہو کہ میں نہیں بتاتی جاؤ نکل جاؤ۔یہ جھوٹ نہیں ہوگا۔