اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 244

244 رہا تھا التحیات میں اس نے انگلی اٹھائی۔اُس کا انگلی اٹھانا تھا کہ تمام مقتدی نمازیں تو ڑ کر اس پر ٹوٹ پڑ۔اور حرامی۔امی کہنا شروع کر دیا۔چنانچہ یہ فسادی حضرت مسیح موعود کے آنے سے پہلے ہی تھے۔مسیح موعوڈ نے تو آکر اصلاح کی چوٹ لگانے والا فساد ہوتا ہے یا ڈاکٹر جو نشتر لے کر علاج پر آمادہ ہوتا ہے؟ ایک شخص کا بخار سے مُنہ کڑوا ہو ڈاکٹر کو نین دے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ظالم نے منہ کڑوا کر دیا۔اگر ڈاکٹر عالم کو نہ پکاتا تو جسم کی خرابی بڑھ جاتی بلغم نکال دینے پر اعتراض کیسا؟ ہڈی ٹوٹی رہتی اگر زخم کو نشتر سے صاف نہ کیا جاتا ، اسپر جلن آمیز ، وائی نہ چھڑ کی جاتی تو مریض کی حالت کس طرح بہتر ہو سکتی ، اُس کی تو جان خطرے میں پڑ جاتی ، اس صورت میں کس طرح کوئی ڈاکٹر کو ملزم بنا سکتا ہے۔ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور ای تفرقے کے متعلق سوال کیا۔آپ نے فرمایا۔اچھا بتاؤ اپنا اچھا دودھ سنبھالنے کے لئے دہی کے ساتھ ملا کر رکھتے ہیں یا علیحد و؟ ظاہر ہے کہ دہی کیساتھ اچھا دودھ ایک منٹ بھی اچھا نہیں رہ سکتا۔پس فرستادہ جماعت کا در مائندہ جماعت سے علیحد ہ کیا جانا ضروری تھا۔جس طرح بیمار سے پر ہیز نہ ہو تو تندرست بھی ساتھ گرفتار ہو جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ روحانی بیماریوں سے فرستادہ جماعت کو علیحدہ رکھے اس لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جنازہ،شادی ، نماز وغیرہ علیحدہ ہو کیونکہ اکثر عورتیں ہی اس میں اختلاف کرتی ہیں۔اس لئے میں عورتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح مریض کے ساتھ تندرست کی زندگی خطرہ میں پڑ جاتی ہے یاد رکھو یہی حالت تمہاری غیر احمد یوں سے تعلق رکھنے میں ہوگی۔اکثر عورتیں کہتی ہیں کہ بہن یا بھائی کا رشتہ ہوا چھوڑا کس طرح جائے۔میں بچ بچ کہتا ہوں کہ اگر زلزلہ آ جائے یا آگ لگ جائے تو ایک بہن بھائی کی پروانہ کر کے بلکہ اُس کو پیچھے دھکیل کر خود اس گرتی ہوئی چھت سے جلدی نکل بھاگنے کی کوشش کرے گی تو پھر دین کے معاملہ میں کیوں یہ خیال کیا جاتا ہے؟ دراصل یہ آرام کے وقت کے جذبات ہیں مصیبت کے وقت کے نہیں۔اگر خدا رات کو تم میں سے کسی کے پاس فرشتہ ملک الموت بھیجے جو کہے کہ حکم تو تیرے بھائی یا دوسرے عزیز کی جان نکالنے کا ہے مگر خیر میں اس کے بدلے تیری جان لیتا ہوں تو کوئی عورت بھی اس کو قبول نہ کرے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا۔یعنی بچاؤ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی جانوں کو آگ سے