اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 16
16 ظلمت کمال کو پہنچی ہوئی تھی عورتوں نے دین کی بڑی خدمت کی کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ جس طرح مرد خدمت دین کرتے ہیں ہم بھی کر سکتی ہیں۔شاید یہ بات بعض کو معلوم نہ ہو کہ سب سے پہلے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائی وہ ایک عورت تھی۔رسول کریم مع غار حرا میں عبادت کیا کرتے تھے وہاں آپ پر جبرائیل نازل ہوا اور آپ کو خدا تعالیٰ کا کلام سُنایا۔آپ کے لئے چونکہ یہ بات بالکل نئی تھی اس لئے آپ سمجھ نہ سکے اور خیال کیا کہ شاید نفس کا دھوکا ہو گا۔ایسا نہ ہو کہ غلطی ہو۔آپ خائف ہوئے اور حضرت خدیجہ سے کہا کہ مجھے بیماری ہوگئی ہے۔آپ نے اس حالت کا نام بیماری رکھا لیکن خدیجہ سمجھدار تھی۔گو اس زمانہ میں وحی نہ ہوتی تھی لیکن آپ سمجھ گئی کہ یہ وحی الہی ہے۔آج تو تمام لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام آیا کرتا ہے پھر بھی دعویدار کو جھوٹا کہہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاگل ہو گیا ہے لیکن باوجود اسکے حضرت خدیجہ اس قوم سے تھی جس کو خدا تعالی پر ایمان نہ تھا ، کوئی الہامی کتاب اُس کے پاس نہ تھی، الہام کی وہ قائل ہی تھی پھر بھی آپ نے یہی کہا آپ کو الہام الہی ہوا ہے، اور یہ ہرگز بیماری نہیں ہے۔كَلَّا وَالله لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا۔حضرت خدیجہ نے کہا آپ کو بیماری نہیں بلکہ یقینی طور پر کلام الہی ہے۔آپ لوگوں سے نیک سلوک کرتے ہیں ،صلہ رحمی کرتے ہیں، مشکلات میں اُن کی مدد کرتے ہیں، پس خدا تعالی آپ کو ہر گز ذلیل نہ کرے گا۔یہ ایک عورت تھی جو اس طرح ایمان لائی کہ مردوں میں بھی اس کی مثال نہیں پائی جاتی۔پھر اعمال کو دیکھتے ہیں تو حضرت خدیجہ کوئی معمولی ایمان نہ لائیں کہ جب دشمنوں نے آنحضرت ﷺ پر حملے کرنے شروع کئے تو انہوں نے اپنا سارا مال آپ کے سپرد کر دیا کہ دین کے راستہ میں خرچ کردیں۔شاید کوئی سمجھے کہ یہ آنحضرت ﷺ کی بیوی تھی اس لئے انہوں نے جو کچھ کیا اپنے خاوند کی عزت کے لئے کیا۔مگر نہیں آپ ہی اسلام میں ایک عورت نہیں گزریں صلى الله بلکہ اور بھی کئی ایک ایسی تھیں جنہوں نے اخلاص اور محبت کا ایسا نمونہ دکھلایا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ایک عورت کا اخلاص چناچہ جنگ اُحد کا واقعہ ہے کفار تین ہزار کا لشکر لے آئے اور ادھر سے ایک ہزار جاں شمار آنحضرت مے کے ساتھ تھے۔لڑائی کے وقت مسلمانوں کے ایک گروہ سے ایسی غلطی ہوئی کہ جس کی وجہ سے اسلامی لشکر کے پاؤں اکھر گئے اور رسول کریم نے تمہارہ گئے کفار نے آپ کو اتنے پتھر مارے کہ آپ زخمی ہو کر گر پڑے اور لاشوں کے نیچے دب گئے۔جب یہ خبر مدینہ پہنچی جو حد سے چار میل کے فاصلہ