اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 200
200 عورتوں کا گھروں سے نکلنا ثابت ہوتا ہے۔فطرت انسانی بھی اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ مرد جو مضبوط ہے اُسے صحت کے درست رکھنے کے لئے باہر کی آب و ہوا کی ضرورت ہو لیکن عورت جو فطر تا کمزور صحت لیکر آئی ہے اُسے کھلی ہوا سے محروم کر دیا جائے۔حدیثوں سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنی بیوی حضرت عائشہ ام المومنین کے ساتھ لوگوں کے سامنے مقابلہ دوڑے اور ایک دفعہ حضرت عائشہ بڑھ گئیں اور ایک دفعہ حضرت نبی کریم سے آگے نکل گئے۔پس اگر مروجہ پردے سے مراد آپ کی مذکورہ بالا پردہ ہے تو یہ پردہ نہایت ہی ظالمانہ پردہ ہے اور اسلام اور مسلمانوں پر ایک داغ ہے جسے جس قدر جلد دُور کیا جائے اتنا ہی اسلام کے لئے بہتر اور مسلمانوں کے لئے بہتر ہے۔ہماری نسلیں اس پردے سے کمزور ہوگئی ہے، ہماری عورتیں دین و دنیا سے جاتی رہی ہیں، ہم غیر قوموں کا نشانہ طعن بن رہے ہیں اور دین کو لوگوں کی نظروں میں ایک قابل ہنسی چیز بنارہے ہیں۔ایک پردہ ہمارے ملک میں یہ ہے کہ عورتیں برقعہ پہن کے باہر نکلتی ہیں ، ایک گھر سے دوسرے گھر تک چلی جاتی ہیں اور اس سے زیادہ باہر نکلنے کی اُن کو اجازت نہیں ہوتی۔یہ پردہ کو اوپر کے پردوں کے برابر قابل اعتراض نہیں لیکن اس سے بھی عورتوں کے دینی ارتقاء اور ان کی صحت کی ترقی میں ایسی مدد نہیں ملتی کہ اُسے قومی ترقی کے لئے کافی سمجھا جائے۔دوسرا ہمارا پرانا برقعہ یا تو عورت کی صحت کو بر با ذ کرنے والا ہے یا پردے کے نام سے بے پردگی کا موجب ہوتا ہے۔اس برقعے میں اوپر سے لے کر نیچے تک ایک گنبد بنا ہوا چلا جاتا ہے، عورت کے ہاتھ بھی اندر بند ہوتے ہیں ، اگر وہ بچے کو اٹھائے تو سر سے پاؤں تک اس کا اگلا حصہ سارے کا سارانگا ہو جاتا ہے اور ایک ایسا حقارت پیدا کرنے والا نظارہ ہوتا ہے کہ ایسے پردے سے طبیعت خود بخود نفرت کرتی ہے۔اس سے بہتر اور بہت بہتر وہ چادر کا طریق تھا جو بُرقعے کی ایجاد سے پہلے تھا۔عورت اپنے کام بھی کر سکتی تھی اور اپنے آپ کو لپیٹ بھی سکتی تھی۔پیکر قعہ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں صحت کے لئے مضر ہے اور پردے کے کام کا نہیں۔میرے نزدیک نیا بُرقعہ جسے لڑکی بُرقعہ کہتے ہیں پردے کے لحاظ سے تمام برقعوں سے بہتر ہے بشرطیکہ اس میں اتنی اصلاح کرلی جائے کہ وہ جسم کے اوپر لپیٹا ہوا نہ ہو، سیدھا کوٹ ہو جو کندھوں سے پاؤں تک آ تا ہوا ایسا کوٹ نہ ہو جو جسم کے اعضاء کو الگ الگ کر کے دکھاتا ہو، اگر اس قسم کا کپڑا جائز ہوتا تو پھر جسم کے کپڑے کافی تھے اُٹھے او پر کسی اور کھلے کپڑے کے لینے کا قرآن مجید حکم نہ دیتا۔اس برقعے میں یہ بھی فائدہ