اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 201
201 ہے کہ چونکہ ہاتھ کھلے ہوتے ہیں عورت سب قسم کے کام اس برقعے میں کر سکتی ہے۔اسکی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے ڈاکٹر اپریشن کے وقت ایک کھلا کوٹ پہن لیتا ہے۔پردے کا قرآن کریم نے ایک اصل بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت کے لئے پردہ ضروری ہے إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ( یعنی سوائے اس کے جو آپ ہی آپ ظاہر ہو ) آپ ہی آپ ظاہر ہونے والی موٹی چیزیں تو دو ہیں یعنی قد اور جسم لیکن عقلاً یہ بات ظاہر ہے کہ عورت کے کام کے لحاظ سے یا وقت کے لحاظ سے جو چیز آپ ہی آپ ظاہر ہو وہ پر دے میں داخل نہیں۔چنانچہ اس حکم کے ماتحت طبیب عورتوں کی نبض دیکھتا ہے۔بیماری مجبور کرتی ہے، کہ اس چیز کو ظاہر کر دیا جائے۔اگر مُنہ پر کوئی جلدی بیماری ہے تو طبیب منہ بھی دیکھے گا ، اگر اندرونی بیماری ہے تو زبان دیکھے گا، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک جنگ میں ہم پانی لاتی تھیں اور ہماری پنڈلیاں ننگی ہو جاتی تھیں۔اُس وقت پنڈلیوں کا ننگا ہونا قرآن کریم کے خلاف نہ تھا بلکہ اس قرآنی حکم کے مطابق تھا۔جنگی ضرورت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ عورتیں کام کرتیں اور دوڑنے کی وجہ سے پنڈلیاں خود بخودنگی ہو جاتی تھیں۔اس وقت پانجامے کا نہیں بلکہ تہ بند کا رواج تھا۔اسی اصل کے ماتحت اگر کسی گھرانے کے شغل ایسے ہوں کہ عورتوں کو باہر کھیتوں پر یا میدانوں میں کام کرنا پڑے تو ان کے لئے آنکھوں اور ان کے ارد گرد کا علاقہ کھلا ہونا نہایت ضروری ہوگا۔پس إِلَّا مَا ظَهَرَ کے ماتحت ماتھے سے لے کر منہ تک کا حصہ کھولنا اُن کے لئے بالکل جائز ہوگا اور پردہ کے حکم کے مطابق بغیر اس کے کھولنے کے وہ کام نہیں کرسکتیں اور جو ضروریات زندگی کے لئے اور ضروریات مصیبت کے لئے کھولنا پڑتا ہے بشرطیکہ وہ مصیبت جائز ہو اس کا کھولنا پر دے کے حکم میں شامل ہی ہے۔لیکن جس عورت کے کام اُسے مجبور نہیں کرتے کہ وہ کھلے میدانوں میں نکل کر کام کرے اُس کا منہ اُس پر دے میں شامل ہے جیسا کہ حدیثوں میں صاف آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں مجھے معلوم نہیں اُس کی شکل کیسی ہے اُس کا باپ شکل دکھانے سے انکار کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ شادی کے لئے شکل دیکھنا جائز ہے۔جب اس شخص نے جا کر لڑکی کے باپ سے ذکر کیا تو پھر بھی اس نے اپنی ہتک سمجھتے ہوئے لڑکی کی شکل دکھانے سے انکار کیا۔لڑکی اندر بات سُن رہی تھی وہ اپنا منہ نگا کر کے باہر آگئی اور اُسنے کہا جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ منہ دیکھ لو تو پھر ہمیں کیا انکار ہو سکتا ہے اگر ہر طرح کی عورتوں کے لئے منہ کھلا رکھنا