اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 190
190 ہمیں تعلیم نہیں دیتے اس لئے ہم علم میں پیچھے ہیں۔میں پوچھتا ہوں ہمیں کس نے تعلیم دی خدا تعالے نے علم اکٹھا کر کے مردوں کے پاس نہیں بھیج دیا تھا کہ مردوں نے سارے کا سارا خود لے لیا اور عورتوں کو اس میں سے حصہ نہ دیا۔مردوں نے خود کوشش کر کے سیکھا انہیں آ گیا تم بھی کوشش کرو اور سیکھو۔در اصل بات تو یہ ہے کہ جس قدر مردوں کو علم سیکھنے میں بیرونی مددمل سکتی تھی اس سے زیادہ عورتوں کو مل سکتی ہے کیونکہ مرد انہیں سکھانے کے لئے تیار ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتیں جرات سے کام لیں۔مضمون لکھنے اور تقریر کرنے کی کوشش کریں۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ لوگ ان کے مضمون پڑھ کر یا تقریریں سن کر اُن کی غلطیوں پر ہنسیں گے مگر ایسے چند ہی لوگ ہوں گے زیادہ تر وہی ہوں گے جو ان کی جد و جہد کو دیکھ کر محسوس کریں گے کہ وہ قابل عزت ہیں۔یہ بہترین نصیحت ہے جو میں ممبرات لجنہ کو کر سکتا ہوں۔اس کے علاوہ یہ بھی کہتا ہوں کہ وہ ممبر بڑھانے کی کوشش کریں۔لجنہ نے ابھی تک اس کے متعلق کچھ نہیں کیا۔یہی ضروری نہیں کہ جو پڑھی لکھی عورتیں ہوں اُن کو مبر بنایا جائے بلکہ جو سنجیدگی سے بات کر سکتی ہیں اور سُن سکتی ہیں خواہ وہ ایک لفظ بھی نہ جانتی ہوں ان کو بھی ممبر بنایا جائے۔اعلے کام ہمیشہ تعاون سے ہوتے ہیں۔پس دوسری عورتوں کو بھی لجنہ میں شامل کرنا چاہیئے۔آج اگر لجنہ کی مبرات پچاس ساٹھ عورتیں ہوتیں تو اُن پر بھی کئی قسم کے نیک اثرات ہوتے۔آب چونکہ مغرب کی اذان ہوگئی ہے اور میرا گلا بیٹھا ہوا ہے اس لئے میں اس دعا پر تقریر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالے ہماری جماعت کے اس حصہ کو بھی ترقی کی توفیق عطا فرمائے اور اس پر اپنا فضل نازل کرے۔الفضل ۱۵ مئی ۱۹۲۶) طالبات مدرسہ خواتین سے خطاب حضور نے یہ تقریر اس دعوت میں فرمائی جو طالبات مدرسہ خواتین نے محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور اُن کی اہلیہ صاحبہ کے اعزاز میں دی تھی:۔یہ مدرسہ میرا ایک علمی درخت ہے ہر ایک شخص جو اپنے ہاتھ سے کوئی پودا لگا تا ہے اُسے اُس پودے سے قدرتی طور پر انس اور محبت