اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 189
189 كَفَرُوْالَوْ كَانُوا مُسْلِمِینَ۔کاش! ہم ایسا ہی کرتے۔غیر مبائعین کی طرف سے آواز آ رہی ہے کہ مولوی نہیں ہیں اس کے لئے انتظام ہونا چاہیئے۔تو خواتین کی تعلیم سے متعلق جو کوشش کی گئی ہے وہ ابتدائی حالت میں ہے اور ہم اس کو کافی نہیں سمجھتے۔لیکن ابتدائی کام اس طرح شروع نہ کریں تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بالکل رہ جاتا ہے۔اگر تعلیم کا کام اسی طرح جاری رہا تو انشاء اللہ ۲-۳ سال میں ایسی استانیاں تیار ہو جائیں گی کہ ہم مڈل تک لڑکیوں کا سکول جاری کر سکیں گے پھر مڈل تک تعلیم یافتہ لڑکیوں کو پڑھا کر انٹرنس تک کے لئے استانیاں تیار کر سکیں گے۔پھر ان سے لے کر اور اعلیٰ تعلیم دلا سکیں گے۔ابھی ہمیں ایسی استانیوں کی بھی ضرورت ہے جو لڑکیوں کو نرسنگ اور ڈاکٹری کی تعلیم دے سکیں۔اس کے لئے چوہدری غلام محمد صاحب نے اپنی لڑکی کو ڈاکٹری سکول میں داخل کر کے اچھی بنیاد رکھ دی ہے۔آگے لڑکی کو بھی اس کام کو پورا کرنے کی اللہ تعالے توفیق دے تو ہمیں بنی بنائی لیڈی ڈاکٹر مل جائے گی۔یہ ابتداء ہے اگر یہ کام جاری رہا اور اگر عورتوں نے ہمت کی تو بہت کچھ کا میابی ہو سکتی ہے اور خدا تعالے بھی ان کی مدد کرے گا۔عورتیں حجرات سے کام لیں یہی ایڈریس جو اس وقت پیش کیا گیا ہے لجنہ کی سیکرٹری نے جو میری بیوی ہیں بہت کوشش کی کہ میں اس کو دیکھ کر اصلاح کردوں لیکن میں نے کہا میں ایک لفظ کی بھی اس میں کمی بیشی نہ کروں گا۔میں نے کہا تم سمجھتی ہو اگر تمہارے لکھے ہوئے ایڈریس میں کوئی غلطی ہوئی تو لوگ تمھیں جاہل کہیں گے مگر مرد بھی غلطیاں کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں پھر تمھیں کیا خوف ہے۔وہ ناراض بھی ہوئیں مگر میں نے ان کے مضمون میں دخل نہ دیا۔میرا طلب یہ تھا کہ اس طرح امداد دینا اوروں میں بولی پیدا کرتاہے عورتیں بھی کام کرسکتے یں جب وہ جرأت اور دلیری سے کام لیں۔مجھے سب سے بڑی تعلیم جو حضرت خلیفتہ امبیع الاول نے دی وہ یہی تھی کہ جب میں پڑھتے ہوئے کوئی سوال کرتا تو آپ فرماتے میاں آگے چلو اس سوال کے متعلق گھر جا کر خود سوچنا۔گویا آپ مجھے کوئی سوال نہیں کرنے دیتے تھے۔حافظ روشن علی صاحب کی عادت تھی کہ سوال کیا کرتے تھے اور انہیں جواب بھی دیتے تھے مگر مجھے جواب نہ دیتے اور بعض اوقات تو میرے سوال کرنے پر حافظ صاحب پر ناراض بھی ہوتے کہ تم نے اسے بھی سوال کرنے کی عادت ڈال دی ہے۔عورتیں کہتی ہیں تم