اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 183

183 مومن کی صفات پھر اللہ تعالے فرماتا ہے يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ، مُسْتَطِيْرًا۔وہ خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں اُس دن سے کہ انجام کا دن ہوگا انجام کا دن ایک دنیا میں بھی آتا ہے اور ایک آخرت میں آئے گا۔اوّل آپ قربانی کرتے ہیں پھر اس سے بڑھ کر دنیا میں خدا کے مظہر بن جاتے ہیں۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِيمَ وَ أَسِیرًا۔خدا رزق دیتا ہے وہ بھی لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں حتی کہ آپ محتاج ہوتے ہیں مگر اپنا کھانا غریبوں، مسکینوں اور قیدیوں کو کھلا آتے ہیں۔پھر إنما نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا۔وہ کھانا کھلا کر احسان نہیں جتاتے کہ فلاں وقت ہم نے یہ احسان کیا تھا ، یہ دعوت دی تھی، بلکہ اُن کا احسان اپنے او پر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو نیکی کا موقعہ دیا۔اُن کو کسی کے ساتھ سلوک کرنے میں مزا آتا ہے۔پس مومن جس کے ساتھ سلوک کرتا ہے اسکا احسان سمجھتا ہے کہ اُس نے شکر کا موقعہ دیا۔عَلى حُبّہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ ہی کے لئے کرتا ہے شہرت کے لئے نہیں کرتا۔وہ اللہ تعالے کی رضاء جوئی کے لئے کرتا ہے۔اس کا ایک ہی مقصود ہوتا ہے کہ میرا مولا مجھ سے راضی ہو جائے۔مومنوں کو کیا بدلہ ملے گا پھر اُن کی احسان کرنے کی ایک اور بھی غرض ہوتی ہے اور وہ یہ کہ إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمُطَرِيرًا۔اُس دن خدا ہمارے کام آئے جو کہ بہت ڈراؤنا دن ہے۔اللہ تعالے ہم کو ان خطرات سے بچائے اور ہم پر رحم کرے۔ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالی فرماتا ہے فَوقَهُمُ اللهُ شَرَّذْلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًا۔ایسے ایمان والوں کے ساتھ اللہ تعالے ایسا سلوک کرے گا کہ وہ قیامت کے دن محفوظ رہیں گے اور ان کو اچھا بدلہ دے گا۔پھر فرماتا ہے وَجَزْهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةٌ و حَرِيرًا۔یہ بدلہ اُن کو اُن کے ایمان کے بدلے میں ملے گا۔مُتَّكِثِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِ يُرًا۔وہ سب کے سب بادشاہ ہوں گے۔وہاں نہ گرمی ہوگی نہ سردی ، وہ ایک نئی دنیا ہوگی ، وہاں گرمی بھی نہیں ہوگی یعنی نہ