اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 182
182 مومن بننے کے لئے قربانیوں کی ضرورت مگر وہ کا فوری پیالہ جو مومن کو دیا جاتا ہے مشکل سے ملتا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے۔عَيْنًا يَّشْرَبُ صلى الله بِهَا عِبَا دُاللَّهِ يُفَجِّرُ ونَهَا تَفجيرًا - جب رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں لوگ ایمان لائے تو قتل کئے گئے۔حضرت بلال کو گرم ریت پر لٹا کر مارتے اور کہتے کہولات خدا ہے۔فلاں بُت خدا ہے، مگر وہ لا إله الا اللہ ہی کہتے۔اور باوجود اس قدر تکلیفوں کے انہوں نے اپنا ایمان نہ چھوڑا۔تو ایمان لانا کوئی معمولی بات نہیں۔جنت کے اردگرد جو روکیں ہیں وہ مشکل سے ہٹتی ہیں اور جو لوگ ایمان کی نہر کھود کر لاتے ہیں وہ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔یہاں جو نہر سے مشابہت دی ہے تو اسی لئے کہ نہر بڑی مشکل سے کھدتی ہے۔اگر اکیلے کسی کو کھودنی پڑے تو کبھی نہ کھود سکے۔اب اگر ہماری جماعت کے مرد یا عور تیں خیال کریں کہ ہم کو یونہی ایمان مل جائے اور کوئی قربانی نہ کرنی پڑے تو یہ ناممکن ہے۔ایمان کے لئے بہت سی قربانیوں کی ضرورت ہے۔قربانیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک تو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں اور دوسری بندہ آپ اپنے او پر عائد کرتا ہے۔پہلی قربانیاں جو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں وہ اس قسم کی ہوتی ہیں۔مثلا کسی کا بچہ مرجائے یا کسی کی بیوی مر جائے اس میں بندے کا دخل نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ جو دوسری قربانی ہے اس میں انسان کا دخل ہوتا ہے کہ بھائی بند ، بیٹا بیوی سب مخالف ہیں اور وہ ایمان لاتا ہے اور اُن کی پرواہ نہیں کرتا یہ ہے جو ایمان کی نہر کو چیر کر لاتا ہے۔اسی طرح ایک عورت ہے جس کی سمجھ میں حق آ گیا۔یا کوئی لڑکا لڑکی ہے جس پر حق کھل گیا اور وہ اپنے ایمان پر قائم رہے اور مخالفت کا خیال نہ کرے تو یہی نہر ہے جو کھود کر لاتے ہیں۔بچپن میں ایمان لانے والوں میں بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ہیں جو پہلے ہندو تھے۔اُن کے والد آ کر اُن کو لے گئے اور جا کر ایک کمرہ میں بند کر دیا۔چھ مہینے بند رکھا ایک دن انہیں موقعہ ملا تو وہ پھر بھاگ کر یہاں آگئے۔تو ایمان کی نہر حاصل کرنے کے لئے بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔دنیا میں جب کوئی کپڑا، جوتی ، روپیہ، غرض کوئی چیز مفت نہیں ملتی تو ایمان جیسی نعمت کیسے مفت مل جائے اور نہر کا لفظ ہی بتا رہا ہے کہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومن وہی ہے جو قربانی کرتا ہے۔اس سے وہ ترقی کرتا ہے۔