اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 154

154 کا علم نہیں لے لیا جائے تو یہ ٹھیک نہیں۔عورت کس وقت مہر دے سکتی ہے ہاں اگر عورت کو مبرمل جائے اور اس پر چار پانچ سال ہو گئے ہوں یا کم از کم ایک سال تک اُس کے پاس رو پی رہ چکا ہوتو پھر اگر وہ اسے اپنے خاوند یا ماں باپ کو دیدے تو میں کہوں گا درست ہے اور پسندیدہ۔اگر کسی عورت کا مہر ایک ہزار ہو اور اُسے خاوند ایک لاکھ اپنی طرف سے دیدے تو میں کہتا ہوں وہ عورت اگر گھر بار کی ضروریات اور حالات سے وقف ہونے کے بعد ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ بھی ماں باپ کو دیدے تو میں کہوں گا اُس نے بہت اچھا کیا لیکن اگر ماں باپ شادی کے وقت ہی لیتے ہیں تو یہ بردہ فروشی ہے جو گناہ ہے لیکن جو عورت شادی کے بعد ماں باپ کی مدد کرے گی اور اپنی ضروریات کو سمجھتے ہوئے مہر کی رقم ہی نہیں بلکہ صلى الله وہ اس سے بھی زیادہ ماں باپ کو دے گی وہ خدا تعالی کی مقبول ہو گی ، رسول کریم نے کی بھی مقبول ہوگی اور وو ماں باپ کی خدمت کا نیک نمونہ پیش کر یگی۔پس اسلام کی یہ تعلیم ہے اس کے خلاف کرنے والا تمدن ، تہذیب اور سیاست کو توڑے گا۔( از مصباح جون ۱۹۴۱ء ) بچوں کی اخلاقی تربیت کے لئے ماں باپ کو ضروری ہدایات فرمودہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۹۳۵ء میں حضرت خلیفہ انبیع الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے بچوں کی بیت کے متعلق ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں نہایت اہم اور ضروی نصائح فرمائیں۔بچپن کی تربیت کا زیادہ تر تعلق چونکہ ماؤں سے ہوتا ہے اس لئے احمدی خواتین کی خاطرہ و نصائح درج ذیل کی جاتی ہیں: تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔اخلاق اور اعمال کی درستگی کے لئے صرف ارادہ ہی کر لینا کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ مشق اور محنت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔محنت اور مشق کے بغیر محض ارادہ کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔لیکن جہاں ارادہ کے ساتھ مشق کا ہونا ضروری ہے اور بغیر محنت مشقت کے محض ارادہ بے فائدہ ہے وہاں پر یہ بات بھی ہے کہ وہ مشق