اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 132

132 سے پڑھتا اس کو پرے بٹھا دیتا یا اپنی کرسی بہت پیچھے بنا لیتا۔اس پر اسے مجبور از ور سے پڑھنا پڑتا۔تو اونچی آواز کرنے سے آواز اونچی ہو جاتی ہے اس کی ضرور کوشش کرنی چاہیئے۔بچوں میں دلیری اور جرات پیدا کرو دوسری بات یہ ہے کہ اخلاق کے متعلق جو بات مد نظر رکھنی چاہیئے اور جو ا علیٰ خلق ہے اور دوسرے اخلاق پر حاوی ہے وہ دلیری اور خجرات ہے۔کوشش یہ ہونی چاہئے کہ بچوں کو بہاؤ ر اور دلیر بنایا جائے ماسٹر صاحب نے مثال بیان کی ہے کہ ڈھاب میں نہانے سے جب بچوں کو روکا جا تا تو اُن کے والد مخالفت کرتے اور کہتے یہ تیرنا جانتے ہیں یہ نہیں ڈوبیں گے مگر وہ دوسروں کو تو ڈبو دیتے جو تیر نانہیں جانتے۔میرے نزدیک اگر بچے بے احتیاطی سے ڈوبتے ہیں تو ان کو بچانا چاہئے لیکن اگر تیرنا سیکھتے ہوئے باوجود ممکن احتیاط کے ڈوبتے ہیں تو کیا حرج ہے؟ انگریزوں میں تیرنے کے مقابلے ہوتے ہیں۔کشتیاں دوڑنے کا مقابلہ کرتی ہیں اور بعض اوقات ٹوٹتی اور ڈوبتی ہیں۔جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں لیکن یہ نہیں کہ آئندہ کے لئے مقابلہ چھوڑ دیں۔پھر جاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ماں باپ بچوں کو بزدل بناتے ہیں جب تک ماں باپ یہ نہ سمجھیں کہ بچہ کا دلیری اور جرات کا کام کرتے ہوئے مرجانا اچھا ہے بہ نسبت اس کے لکھا بکر زندہ رہنے کے۔اس وقت تک اصلی جرات اور دلیری بچوں میں پیدا نہیں کی جاسکتی مگر یزی خرابی یہ ہے کہ ماں باپ خود بچوں کو نکما اور بزدل بناتے ہیں۔ذرا اندھیرا ہو تو کہتے ہیں باہر نہ جانا۔ذرا کوئی مشقت کا کام کرنے لگے تو روک دیتے ہیں۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ چھوٹی موٹی بنار ہے۔اور اس طرح بچے کسی کام کے نہیں رہتے۔ماں باپ کا تو یہ کام ہونا چاہیئے کہ جان بوجھ کر بچوں کو اندھیرے میں بھیجیں اور ہر طرح جرات اور دلیری سکھائیں۔بچوں کو تیراک بنانا وہ بچے جو تیر نا نہیں جانتے ان کو اکیلے پانی میں نہیں جانا چاہیئے مگر تیر نے والے ان کو اپنے ساتھ لے جائیں اور تیرنا سکھائیں۔یہ نہایت ضروری ہنر ہے اس لئے ضرور سکھانا چاہیئے اور اپنے بزرگوں کی پیروی