اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 119

119 اس کام میں نہیں لیا جائیگا اگر کسی مرد کی طرف سے چندہ آگیا تو وہ کسی اور مد کی طرف منتقل کر دیا جائے گا۔اس میں صرف عورتوں کا ہی روپیہ ہوگا تا کہ یہ مسجد ہمیشہ کے لئے عورتوں کی ہی یادگارر ہے۔میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عورتوں کو اس کام کی توفیق عطا کرے۔الفضل ۸ فروری ۱۹۲۳ صفحه ۶،۵) برتن میں احمد یہ مسجد بنانے کی تحریک خطبه جمعه از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرموده ۲ مارچ ۱۹۲۳ ، تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک قول جو ایک عام قانون قدرت کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ مجھے بہت پسند آتا ہے فرماتے ہیں:۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے“ کسی درخت کی قیمت کسی درخت کی حقیقت، کسی درخت کا فائدہ اس کے عام نفع رسانی اور اس کا لوگوں کے لئے موجب برکات ہونا اس کا اندازہ اس کے پھل سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔پھل سے یہ مراد نہیں کہ وہ میوہ جو کھایا جاتا ہے بلکہ پھل سے وہ مقصد اور مدعا، وہ کام اور غرض مراد ہے جس کے لئے کوئی درخت لگایا جاتا ہے کہ اس کے پتوں سے فائدہ اُٹھایا جائے اس کے پتے ہی اس کا پھل ہیں۔ایک درخت جو اس لئے لگایا جاتا ہے کہ اس کا ایندھن بنایا جائے اُس کی لکڑی اُس کا پھل ہے۔ایک ایسا درخت جو میوے کے لئے لگایا جاتا ہے اس کا میوہ اس کا پھل ہے۔غرض جو درخت جس مقصد کے لئے لگایا جاتا ہے اگر اسی کے مطابق وہ میوہ پیدا کرتا ہے اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو وہ اعلیٰ درجہ کا پھل لاتا ہے۔مثلاً ایک ایسا درخت جو پتوں کی غرض سے لگایا جاتا ہے یعنی اس کے پتے ایسے مفید ہوتے ہیں کہ دوائیوں میں پڑتے ہیں یا اس کی شاخیں ایسی محمد و اور کارآمد ہوتی ہیں کہ صنعت و حرفت میں کام آتی ہیں یا اس کا سایہ ایسا اچھا ہوتا ہے کہ لوگ اس