اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 120
120 سے آرام پاتے ہیں جب یہ کام دینے لگ جائے تو وہ درخت اچھا ہوگا کیونکہ اس کا پھل اچھا ہے۔لیکن اگر وہ اس غرض کو پورا نہیں کرتا جس کے لئے لگایا گیا تو وہ درخت اچھا نہیں ہو گا اس کو اگر ساری دنیا اچھا کہے تو وہ اچھا نہیں بن سکتا اور اگر اس کی جو غرض ہو اُسے وہ پورا کرے ساری دُنیا کے بُرا کہنے سے وہ بُر انہیں ہوسکتا یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس سے ہزاروں جگہ فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔کسی سلسلہ کی سچائی اور اُس کی راستی کا معیار بھی یہ بات ہے کہ آیا اُس کا پھل قیمتی اور کار آمد ہے یا نہیں۔وہ سلسلہ اس غرض اور غائیت کو پورا کرتا ہے یانہیں جو روحانی سلسلہ کی ہوا کرتی ہے۔اگر کوئی سلسلہ اپنی تاثیرات اور اپنے اثرات اور اپنی نفع رسانیوں سے ثابت کر دے کہ وہ اس فرض کو پورا کر رہا ہے جو روحانی سلسلہ کی ہوا کرتی ہے تو وہ اعلیٰ اور سچا ہے لیکن اگر کوئی سلسلہ اپنے پھلوں سے اپنے اعلیٰ ہونے کا ثبوت نہیں دیتا تو وہ سچا کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا ہمارے سلسلہ کے متعلق بھی لوگوں کو شبہات پیدا ہوتے ہیں اور شبہات پیدا کیا ہوتے ہیں یوں کہو کہ چونکہ ہمارا سلسلہ ان لوگوں کے عقائد اور خیالات کو باطل قرار دیتا اور اُن کور و کرتا ہے اس لئے عام طور پر وہ لوگ سلسلہ کی مخالفت پر کھڑے رہتے ہیں اور عیب نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن ایک عقلمند اور منصف انسان کے لئے فیصلہ کرنے میں بہت آسانی اور سہولت ہو جاتی ہے اگر وہ یہ دیکھے کہ کیا اس سلسلہ کے پھل ایسے ہی ہیں جیسے پہلے روحانی سلسلوں کے ہوتے رہے ہیں۔اگر اسے ویسے ہی پھل نظر آ ئیں تو اُسے اس سلسلہ کو بھی روحانی ماننا پڑے گا لیکن اگر کوئی پھر بھی اعتراض کرے گا تو یہ اس کی اندرونی خرابی اور نقص کی وجہ سے ہوگا نہ یہ کہ سلسلہ سچا نہیں ہوگا۔دیکھو اگر نیشکر اعلیٰ درجہ کا ہے اور اس کے چکھنے سے کسی کو کڑواہٹ معلوم ہوتی ہے تو یہ نیشکر کا نقص نہیں ہوگا بلکہ چکھنے والے کا ہو گا۔اسی طرح اگر شیریں پھل سے کسی کے منہ میں کڑواہٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پھل خراب ہے بلکہ یہ چکھنے والے کے اندر مرض ہے۔اسی طرح اگر ایک کھانے کا عمدہ ہونا دلائل اور مشاہدات سے ثابت ہو جائے۔اور پھر کچھ لوگ اسکے متعلق اعتراض کریں کہ یہ پھیکا ہے۔بدمزہ ہے یا یہ کہ اس میں نمک زیادہ ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہونگے کہ کھانا خراب ہے بلکہ یہ کہ نقص نکالنے والوں میں نقص ہے۔اس صورت میں ہمارے لئے ضروری نہیں ہو گا کہ ہم کھانے کی اصلاح کریں بلکہ یہ ضروری ہوگا کہ اعتراض کرنے والوں کی بیماری کی اصلاح کریں۔اُن کی ناک ، زبان اور عقل کی شہادت اس امر کے لئے کافی نہیں ہوگی کہ کھانے میں تغیر کریں بلکہ وہ اس امر کی