اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 116
116 سے بنے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عورتوں کی ذاتی جائیداد نہیں ہوگی لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عورتوں کی مالی بنیاد زیورات پر ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مرد کا دخل آمدنی میں ہوتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مردوں میں سے اکثروں کے پاس بوجہ ان کی ذمہ داریوں کے مال نہیں ہوتا لیکن عورتوں کے پاس زیور کی صورت میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے اس وجہ سے قحط کے دنوں میں مرد عورتوں سے کچھ لے کر گزارہ کرتے ہیں اس لئے یہ نہ کوئی خیال کرے کہ عورتوں کے پاس کہاں سے مال آئے گا آخر وہ ہم سے ہی لیں گی۔عورتیں اپنے زیورات وغیرہ سے چندو دے سکتی ہیں۔یہ علیحد و بات ہے کہ کسی کے پاس زیادہ ہو اور کسی کے پاس تھوڑا ہو۔خدا کے حضور تھوڑے بہت کا سوال نہیں اُس کے حضور تو اخلاص کا سوال ہے۔مسجد برلن کے لئے چندہ کی تحریک میرا یہ منشاء ہے کہ جرمنی میں مسجد عورتوں کے چندہ سے بنے کیونکہ یورپ میں لوگوں کا خیال ہے کہ ہم میں عورت جانور کی طرح سمجھی جاتی ہے۔جب یورپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت اس شہر میں جو دنیا کا مرکز بن رہا ہے اس میں مسلمان عورتوں نے جرمن کے نو مسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کرائی ہے تو یورپ کے لوگ اپنے اس خیال کی وجہ سے جو مسلمان عورتوں کے متعلق ہے کس قدر شرمندہ اور حیران ہوں گے۔اور جب وہ مسجد کے پاس سے گزریں گے تو ان پر ایک موت طاری ہوگی اور مسجد بآواز بلند ہر وقت پکار ریگی کہ پادری جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ عورت کی اسلام میں کچھ حیثیت نہیں۔وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عورتیں بالکل جانور ہیں اور ان کو جانور ہی سمجھا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے۔مسلمان عورتوں کو جانور کی طرح سمجھتے ہیں۔اب جب صرف عورتوں کے چندہ سے وہاں مسجد بنے گی تو ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہاں کی عورتوںکو تو یہ بھی علم ہے کہ ایسے لوگ بھی دُنیا میں ہیں جو ایک بندے کی پرستش کرتے ہیں۔یوں تو اُن میں یہ بھی قاعدہ ہے کہ شادی سے ایک ماہ بعد میاں بیوی آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور میاں کسی اور کی تلاش میں پھرتا ہے اور بیوی کسی اور کی تلاش میں پھرتی ہے۔وہاں اگر ایک ماہ تک میاں بیوی آپس میں محبت کے ساتھ رہتے ہوئے دکھائی دیں تو بڑا تعجب کیا جاتا ہے۔اور ہمارے ہاں حقیقی تعلقات جو میاں بیوی میں ہوتا ہے ان کی ہوا بھی اُن کو نہیں چھو گئی۔