اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 117
117 مگر قلم در کف دشمن والی بات ہے۔قلم ان کے ہاتھ میں ہے جو کچھ وہ چاہتے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق لکھ دیتے ہیں۔مولوی مبارک علی صاحب نے ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ فن تعمیر کے ایک ماہر نے مسجد بنانے کے لئے دولاکھ روپے کا اندازہ لگایا تھا کیونکہ اس نے خیال کیا کہ جس قوم نے ہمارے ملک میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا ہے وہ کوئی بڑی مال دار قوم ہوگی لیکن مولوی صاحب نے اُسے کہا کہ اتارو پیہ ہمارے پاس نہیں تو پھر اسنے پچاس ہزار روپیہ کا اندازہ لگایا۔پانچ ہزار کی زمین اور ۴۵ ہزار روپیہ عمارت پر خرچ آئے گا کیونکہ اس کا نقطہ خیال یہ ہے کہ چونکہ یہ بڑا شہر ہے اور اُمراء کا شہر ہے اس لئے اس میں بڑی عمارت چاہیئے کہ جس کا لوگوں پر اثر ہو اور لوگ اس کی طرف توجہ کر سکیں معمولی عمارت کا ان لوگوں پر اثر نہیں ہوگا۔وہ تو پھر ویسے ہی ہے جیسے ایک پختہ مکان ہو اور پھر اس میں کوئی حصہ کچی اینٹوں کا ہو تو وہ معیوب معلوم ہوگا۔خیر اس کے اندازہ کے مطابق پچاس ہزار روپیہ سے مسجد کی عمارت قائم ہوسکتی ہے جو صرف مسجد ہی نہیں ہوگی بلکہ اس میں مبلغین کی رہائش کے لئے بھی مکان ہوگا۔یہ معاملہ میں تمام جماعت کی عورتوں کی سامنے پیش کرتا ہوں۔یہ زمانہ مقابلہ کا ہے۔ولایت میں تو عورتیں وکالت اور ڈاکٹری کے امتحان تک مردوں کا مقابلہ کرتی ہیں مردوں سے برابری بتانے کے لئے آگے خواہ وہ کام نہ کرسکیں۔خیر وہ تو اپنی عمر کو ضائع کرتی ہیں لیکن ہم کو ایک نیک مقابلہ کرنا چاہیئے اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اب عورتیں یورپ میں مسجد بنوائیں۔پہلے لنڈن والی مسجد میں عورتوں کا دس ہزار چندہ تھا اور شریعت کے لحاظ سے مردوں سے عورتوں کا نصف چندہ ہونا چاہیئے کیونکہ عورتوں کا حصہ شریعت نے نصف رکھا ہے۔اس لئے اب عورتیں پچاس ہزار روپیہ چندہ مسجد احمد یہ برلن کے لئے تین ماہ کے اندر دیدیں۔حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی ہے کہ زار روس کا عصا چھینا گیا ہے اور وہ آپ کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔اور روس کا دروازہ برلن ہے اور اس دروازہ کے ذریعہ سے روس فتح ہو سکتا ہے۔یوں تو روس میں تبلیغ کرنا تو الگ رہا اس میں ہمارا موجودہ حالات کی وجہ سے گھسنا ئی مشکل ہے۔اس میں تبلیغ کا ذریعہ جرمن ہی ہے۔جرمن کے ذریعہ ہم بڑی آسانی سے روس میں تبلیغ کر سکتے ہیں اور عورتوں کے ہاتھ سے اس اہم پیشگوئی کا پورا ہونا ان لوگوں پر بہت اثر کرے گا جو بعد میں آئیں گے اور انہیں معلوم ہو گا کہ عورتوں میں بھی مردوں کی طرح بہت اخلاص ہے۔اور ادھر یورپ کو معلوم ہوگا کہ کس قدر