اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 110

110 کیفیت ہے۔پھر اس میں تقسیم بلاد کے لحاظ سے بحث کریں گے کہ کون سے جانور کس ملک میں پائے جاتے ہیں اور کس ملک میں وہ نہیں پائے جاتے اور کیوں ہیں۔غرض یہ بھی ایک وسیع علم ہے۔(۵۹) انسٹھواں علم کان کنی ہے۔اس کی کئی شاخیں ہیں۔کانوں کا دریافت کرنا۔ان میں روشنی اور ہوا کا پہنچانا۔پہلے زمانہ کے لوگ ترقی نہ کر سکتے تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ زمین کے اندر کس قسم کے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔کان کنی کے علم نے آب بہت ترقی کی ہے۔کانیں زمین کے اندر ہوتی ہیں وہاں روشنی اور ہوا کا پیدا کرنا ایک خاص علم کو چاہتا ہے۔جس کے ذریعہ وہاں کام کرنے والے کام کر سکیں اور آگ لگنے یا دم گھٹنے کے حادثات بھی پیدا نہ ہوں۔(۶۰) ساٹھواں علم علم العناصر ہے۔اس میں عناصر اور دھاتوں کے متعلق بحث کی جاتی ہے۔علوم بجراحی والا دویة والامراض اکسٹھواں علم علم التشریح ہے۔اس میں بتایا جاتا ہے کہ انسان یا جانداروں کے جسم کی کیا حقیقت ہے۔اس علم کے ذریعہ ہی اُن کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں ناڑ کہاں ہے یا فلاں ہڈی کس مقام پر ہے اور اس کی کیسی شکل ہے۔اس علم کے ذریعہ علاج میں بڑی مددملتی ہے اور اب اس علم نے بہت ترقی کی ہے اور مختلف قسم کے اور علوم اس کی مدد کے لئے پیدا ہو گئے ہیں۔(۶۲) باسٹھواں علم علم الادویہ ہے۔دواؤں کی کیا تاثیرات ہیں۔زیادہ یا کم مقدار میں وہ کیا اثر کرتی ہیں۔کسی خاص بیماری میں ان کی تاثیر کیا ہے۔یہ ایک مستقل علم ہے اور بہت وسیع ہورہا ہے۔(۶۳) تریسٹھواں علم علم الجراحت ہے۔یعنی جراحی کا علم۔ہڈیوں کو جوڑنا۔چیرا دینا یا دوسرے جانوروں کی ہڈیاں لے کر انسان کی بعض ہڈیوں کی جگہ لگا دینا۔(۶۴) چونسٹھواں علم ز سرتی ہے۔اس میں بتایا جاتا ہے کہ بیار کی تیمارداری کس طرح کرنی چاہیئے بیمار کا مزاج چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔یہ علم بتائے گا کہ بیمار کے مزاج کو مد نظر رکھ کر کہاں ہم کو غصہ دکھانا چاہیئے اور کہاں نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔بعض وقت اندر فضہ ہوتا ہے مگر ظاہر میں نرمی کا برتاؤ کرنا پڑتا ہے اور بعض