اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 106

106 مائع اور گیس کے جدا جدا کیا خواص ہیں؟ جس قدر مشینیں ایجاد ہوتی ہیں وہ اس علم سے بنتی ہیں۔غرض یہ علم سیال ، گیس ، آواز ، روشنی ، مقناطیس ذرات اور اجزائے مادہ پر بحث کرتا ہے۔اسی کی وجہ سے ایجادیں ہوتی ہیں۔مثلاً ریل کا انجن اسی علم سے بنا کہ گرمی کی کیا طاقت ہے۔کس طرح اس طاقت کو پیدا کیا جاتا ہے اور کس طرح بند کیا جاتا ہے۔اسی علم نے بجلی کی روشنی پیدا کی اور پھر اسی علم سے بتایا جاتا ہے کہ کس طرح بجلی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی جاتی ہے۔پھر اس علم کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ بغیر تار کے بھی بجلی جاسکتی ہے۔کوئی حرکت ضائع نہیں جاتی۔پھر ذرات کا علم ہے جس سے ترقی کر کے ٹیکا نکلا ہے۔غرض مشینوں کا کام گیس ، سیال اور مقناطیس کے ذریعہ چل رہا ہے اور یہ تمام اس علم کا نتیجہ ہیں اور ایجادات میں اس کا بڑا دخل ہے۔پھر اس علم کا ایک حصہ ملی کہلاتا ہے یعنی علم کتابی کو کس طرح استعمال کر کے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور ایک مکینیکل کہلا تا ہے۔مشینوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔(۵۲) با ونواں علم کیمسٹری ہے۔یہ وہی ہے جس کو پرانے زمانہ میں کیمیا کہتے تھے۔دو چیزیں ملا کر تیسری چیز پیدا ہونے پر اس علم میں بحث کی جاتی ہے۔غرض یہ علم بتاتا ہے کہ مختلف چیزیں مل کر کونسی نئی چیز پیدا ہوتی ہے اور اس کے خواص میں کیا تبدیلیاں ہو جاتی ہیں۔اس علم پر طلب کی بنیاد ہے۔مثلاً کونین دوسری چیزوں سے مل کر کیا اثر کرتی ہے۔طب کی بنیاد اور سائنس کے شعبدے اس پر موقوف ہیں۔یہ بھی علمی اور عملی ہوتی ہیں۔پھر اسی علم کے ایک حصہ میں جسمانی چیزوں کے تجربہ کئے جاتے ہیں۔ایک خاص صبہ انسان کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔کیمسٹری میں اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ خون کے کیا اجزاء ہیں۔پھر دو حصے اس کے اور ہیں جو نباتات اور جمادات سے تعلق رکھتے ہیں۔(۵۳) تر پونواں علم جیالوجی ہے۔اس کو علم طبقات ارض بھی کہتے ہیں۔اس علم کی کئی شاخیں ہیں۔اسی علم کی شاخوں میں سے ایک حصہ وہ ہے جو دنیا کے لئے مفید ثابت ہو رہا ہے وہ زلزلہ کا علم ہے۔زلزلہ سے دُنیا کی بڑی تباہی ہوتی ہے۔۱۹۰۵ء میں جو زلزلہ پنجاب میں آیا تھا اس میں میں ہزار کے قریب لوگ ضائع