اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 3

3 حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کا وعظ مستورات میں ( بمقام لاہور ۸۔جولائی ۱۹۱۵ء) انسانی تقسیم خدا تعالٰی نے انسان کو دو قسموں میں پیدا کیا ہے ایک مرد دوسرے عورتیں۔تمام دنیا کے انسان انہی دو قسموں میں منقسم ہیں اس لئے جس قدر شریعتیں خدا تعالی کی طرف سے آئی ہیں ان کے مخاطب صرف مرد ہی نہیں ہوتے بلکہ عورتیں بھی ہیں لیکن جب دنیا میں جہالت اور گمراہی پھیل جاتی ہے تو بہت سے لوگ شریعت کے جوئے کو اپنی گردن سے اُتارنا چاہتے ہیں اور جس طرح وحشی بیل اور منہ زور گھوڑے جوئے کے نیچے سے گردن نکال کر بھاگنا چاہتے ہیں۔اسی طرح جب جہالت بڑھتی ہے تو انسان قسم قسم کے بہانوں سے اپنے آپ کو شریعت کے احکام سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔اس زمانہ میں جبکہ اسلام کے لئے مصیبت کا زمانہ ہے مسلمانوں نے قرآن شریف کو بھلا دیا ہے اور اس بات کو بھول گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کیا حکم دیا تھا اور جہاں عام طور پر مردوں نے شریعت سے اپنے آپ کو آزاد کرانا شروع کر دیا ہے وہاں تمام کی تمام عورتوں نے سوائے شاذ و نادر کے شریعت کی پابندی کو اُتار دیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے شریعت کو سمجھا ہی نہیں اس لئے ھوکر کھا کر کہیں کی کہیں چلی گئی ہیں حالانکہ خدا تعالٰی کا کلام جس طرح مردوں کے لئے آیا تھا اسی طرح عورتوں کے لئے تھا۔مرد و عورت کے حقوق کوئی نادان نادانی سے کہہ دے کہ اصل حقوق مردوں کے ہی ہیں یا سب حقوق عورتوں کیلئے ہی ہیں تو یہ اور بات ہے جو تنگ خیالی اور کوتاہ نظری کا پتہ دیتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے نزد یک مرد اور عورت دونوں برابر ہیں۔اُس نے دونوں کو پیدا کیا ہے اگر کوئی مرد اس کے حکم کو توڑتا اور عورت فرمانبر داری کرتی ہے تو وہ عورت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مرد سے بدرجہا اچھی ہے۔اسی طرح اگر کوئی عورت خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہے اور مرد فرمانبرداری کرتا ہے تو وہ مرد خدا تعالیٰ کے نزدیک اس عورت سے بدرجہا اچھا ہے۔خدا تعالیٰ چونکہ دونوں کا خالق ہے اس لئے اُس کا نہ صرف مردوں سے رشتہ ہے اور نہ صرف عورتوں سے اسکے نزدیک دونوں برابر ہیں۔پس اُس نے جو کلام بھیجا ہے وہ صرف مردوں کے لئے ہی نہیں بلکہ عورتوں کے لئے بھی بھیجات مگر مسلمانوں میں تعلیم کی کمی سے شریعت کی نا واقعی سے ایسی جہالت اور بے دینی پھیل گئی ہے کہ اسلام سے بہت دور چلے گئے ہیں اور خاص کر عورتوں میں جہالت اور بے