اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 75

75 الله کہتے ہیں۔جیسے ابو ہریرہ ( رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ آنحضرت ماہ سے ایسا سنا یا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ میں نے رسول اللہ اللہ سے سنا۔یا کسی اور صحابی کا ایسا کہنا روایت ہے اور اس روایت کو حدیث کہتے ہیں۔(۲) دوسراحصہ اصول حدیث ہے جس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حدیث کس طرح پر لکھی گئی۔اسکے اصول بیان کئے ہیں۔اس علم میں یہ بھی بتایا کہ کتنی قسم کی حدیثیں ہوتی ہیں۔بعض صحیح ہوتی ہیں بعض کمزور ہوتی ہیں۔پھر ان اقسام حدیث کے درجے بتائے جاتے ہیں۔یعنی کہاں تک کوئی حدیث اثر رکھتی ہے۔اس علم کی ایک شاخ اور نکل آئی ہے۔وہ اسماء الرجال ہے۔اس علم میں یہ بحث ہے کہ فلاں راوی صادق ہے یا کیسا ہے۔اس کا حافظ کیسا ہے۔وہ ملا بھی ہے یا نہیں۔فرض راویوں کے حالات پر بہت کھول کھول کر بحث کی جاتی ہے۔اور ان ساری باتوں کا اثر حدیث پر جا پڑتا ہے۔چوتھا حصہ حدیث کے متعلق تاریخ حدیث ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ حدیث کے لکھنے کا خیال کیونکر پیدا ہوا اور کس زمانہ میں حدیث کی تحریر شروع ہوئی۔مئولفین نے حدیث کا ذکر بھی کیا ہے اور یہ بھی کہ اٹلی میں کیا کیا ترقیاں ہوئیں۔پانچواں حصہ علم حدیث کے متعلق شرح حدیث ہے۔جس طرح پر قرآن کریم کی تفسیر کی گئی ہے اسی طرح پر حدیث کی شرح لکھی گئی ہے۔چھٹا حصہ موضوعات حدیث کا ہے۔اگر چہ یہ بحث اسما ولا جال میں بھی آجاتی ہے مگر بعض نے مستقل طور پر اس علم کو لیا ہے اور موضوع احادیث کو جمع کیا ہے۔چوتھا علم علوم اسلامی میں فقہ کا علم ہے اس کے بھی کئی حصہ ہیں۔ایک تو خود فقہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وضوء اس طرح کرنا چاہیئے ، نماز اس طرح پڑھنی چاہیئے ، اس طرح زکوۃ ، روزہ ، نکاح ، حج ، اور دوسرے مسائل لین دین ، ورثہ وغیرہ کے متعلق حدیث میں بھی مسائل آتے ہیں مگر متفرق طور پر فقہ میں - مسائل کو ایک جگہ جمع کر کے بتا دیا ہے۔فقہ کے علم کے ماتحت بھی کئی علم ہیں۔ان میں سے ایک اصول وہ ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ فقہ