اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 76
76 کیوں کر بنائی جاتی ہے۔یعنی کن کن طریقوں پر اس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔پھر آگے اس میں اختلاف ہوگا۔کوئی کہے گا یہ بات قرآن کریم کے مطابق ہو۔ایسا ہی کوئی کہے گا کہ قیاس اور عقل کو بھی دخل ہوگا۔پھر صرف و نحو کا دخل ہوگا اس کے لحاظ سے یہ معنے ہوں گے۔پھر اس سے بھی اختلاف ہوگا۔غرض اصول فقہ میں یہ بحث ہو گی کہ کس طرح مسائل نکالے جائیں۔فقہاء کے موٹے موٹے فرقے یہ ہیں۔حقی۔شافعی الگی متیلی۔حنفی زیادہ زور قرآن مجید سے اجتہاد کر کے مسائل کے ماننے پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں جو عقل سے ثابت ہوں وہ مانیں گے اور حدیث پر زور نہیں دیتے۔یہ مسئلہ ان کو بھول جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا فہم سب سے برتر ہے۔یہ حالت آب ان لوگوں کی ہے ورنہ پہلے لوگوں کا عمل قرآن مجید اور احادیث ہی پر تھا۔امام ابو حنفیہ اولیاء اللہ میں سے تھے۔شافعی عقل کی طرف زیادہ جاتے ہیں۔مالکی بھی عقل پر زور دیتے ہیں مگر حدیث پر بھی شافعی مذہب سے زیادہ زور دیتے ہیں۔امام مالک کی موطا بہت معتبر کتاب ہے۔امام جنبل سب سے زیادہ زور حدیث پر دیتے ہیں۔پانچواں فرقہ اہل حدیث کا ہے وہ بالکل حدیث پر چلتے ہیں اور عقل کو نہیں مانتے۔وہ کمزور حدیث کو بھی مقدم کر لیتے ہیں حالانکہ ضرورت تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے ثابت شدہ ہو یعنی قرآن مجید کے خلاف نہ ہو اور عقل بھی اُس کو ر ڈ نہ کرے۔پھر فقہ سے تعلق رکھنے والا تیسر اعلم فتاویٰ سے تعلق رکھتا ہے علماء نے مسائل ضروریہ کے متعلق جو فتاویٰ دیے ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔پانچواں علم اسرار شریعت کا ہے۔اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے روزہ کیوں رکھا جاتا ہے۔غرض احکام شریعت کے وجوہ بیان کرنا اسرار شریعت ہے۔اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کسی حد تک اسرار شریعت معلوم ہو سکتے ہیں اور کس حد تک بیان کر سکتے ہیں۔چھٹا علم اصول شریعت ہے۔یعنی شریعت کی کیا کیا بنیاد ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ کی وحی سے نازل شدہ علوم