اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 66
66 ہیں کہ جب روم میں گئے تو اُن کو قائم مقام مقرر کیا تھا اس لئے وہ اُن کا خلیفہ تھا۔روم کے پادریوں کا سب سے بڑا افسر جس کو پوپ کہتے ہیں اُس کو وہ پطرس کا جانشین اور خلیفہ سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ باقی جس قدر پادری ہیں وہ اُس کی اطاعت کریں۔اگر وہ اس کی اطاعت نہیں کرتے تو مسیح کی بھی نہیں کرتے۔غرض وہ حضرت مسیح کی خلافت متواترہ کا اقرار کرتے ہیں۔میں اس وقت یہ بحث نہیں کروں گا کہ یہ غلط ہے یا تی بلکہ مجھ کو تو صرف یہ بتانا ہے کہ یہ بھی ایک علم ہے۔پھر وہ لوگ حضرت مریم کی طرف کچھ خدائی صفات منسوب کرتے ہیں اور یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب کوئی بزرگ مرجاتا ہے تو اس کی قبر یا لاش سے دعا کرتے ہیں۔سائنس کے طریق پر بعض لاشوں کو محفوظ رکھتے ہیں اور بزرگوں کی قبروں پر یا جہاں انہوں نے دُعائیں کی ہوں جاتے ہیں۔انتظامی طور پر وہ خلیفہ کو مانتے ہیں اور مذہبی لحاظ سے اُن کا خیال ہے کہ حضرت مسیح اور مریم اور دوسرے بزرگوں کی قبر یا مقامات مقدسہ پر دُعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے۔ان میں ایک رسم عشاء ربانی کی ہے کہتے ہیں کہ مسیح نے اپنی گرفتاری سے پہلے شراب یا انگور کا رس اور روٹی کا ٹکرا لے کر پیا اور حواریوں کو دیا اور اس کی تعبیر اپنے گوشت اور خون سے کی۔یہ اُس کی نقل کرتے ہیں اور یہ عقید ور رکھتے ہیں یعنی وہ ڈبل روٹی کو گوشت اور شراب کو اُس کا خون یقین کرتے ہیں۔رومن کیتھولک کے ماتحت بہت بڑا علاقہ ہے اور رومن کیتھولک پرانے طریق کے عیسائی ہیں۔دوسرا فرقه گر یک چرچ ہے۔گر یک چرچ کے معنے ہیں۔یونانی گر جا۔یہ لوگ پانچویں مسیحی میں جدا ہو گئے۔یونانیوں میں بُت پرستی زیادہ تھی۔یہ لوگ رومیوں کے اس خیال کو صحیح نہیں سمجھتے کہ پوپ منبع کا قائم مقام ہے اس لئے وہ پوپ سے الگ ہو گئے۔اُن کا بڑا پادری پیڑی مارک کہلاتا ہے جو قسطنطنیہ میں رہتا ہے اس کو بھی پوپ کی طرح وہ مسیح کا قائم مقام نہیں سمجھتے۔تیسرا مذہب پروٹسٹنٹ۔پروٹسٹنٹ کے معنے ہیں مقابل میں اظہار نفرت یا اظہار علیحدگی۔ان لوگوں نے پوپ سے علیحدگی کا اظہار کر دیا۔رومن کیتھولک سے یہ لوگ نکل کر علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہر شخص آزاد ہے پوپ کچھ چیز نہیں۔اُن کے ہاں بھی گر جا ہے اور وہ اُسے بادشاہ کے ماتحت سمجھتے ہیں۔یہ انگلستان کا حال ہے یورپ کے باقی ممالک والے گرجے کے ماتحت سمجھے جاتے ہیں جن میں عام لوگوں کی