اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 47

47 نہیں۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو خدا کی شکل ہمارے اندر اچھی طرح سے نہیں آئی۔خدا تعالیٰ نے جو تمہیں پیدا کیا ہے تو اس سے غرض یہ ہے کہ تمہارے ذریعہ سے اپنی صفتیں ظاہر کرے اور اگر تم میں وہ سب صفتیں ظاہر نہیں ہوتیں تو معلوم ہوا کہ تم کو پیدا کر نیکی غرض پوری نہیں ہوئی اور تمہاری مثال اُس خراب شیشے کی مانند ہوگی جس میں منہ اچھی طرح دکھائی نہیں دیتا اور اُس کا مالک اُس کو پھینک دیتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اس شخص کو دے مارتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جو بندہ جتنا بھی نیک ہوتا ہے اتناہی اللہ تعالیٰ اُس پر فضل کرتا ہے اور جتنابر اہوتا ہے آخر خدا بھی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور جانور کی قدر اس آدمی سے زیادہ کرتا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ ایک درخت پر ایک چڑیا کا گھونسلا تھا اور اس میں چڑیا نے بچے دیئے تھے۔جب طوفان آیا اور پانی بہت اونچا چڑھ گیا تو خدا تعالی نے کہا کہ چڑیا کے بچے بہتر ہیں ان لوگوں سے جن پر میر انغضب نازل ہوا میں اُن لوگوں کو ماروں گا مگر ان چڑیا کے بچوں کو بچالونگا۔پیدائش کا مطلب کیا ہے؟ تو انسان کی غرض ہے کہ خدا تعالی کے حکموں کو بچا لا ؤ اور اس کی صفتوں کو ظاہر کرو اور کوئی کمزوری بھی اپنے اندر نہ رکھو اور نہ جھوٹ بواو جھوٹ بولنا تو کمزوری کی نشانی ہے۔خدا کا حکم ہے کہ غریبوں کی خبر داری کرو۔اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا کا نمونہ بن جاؤ کیونکہ وہ بھی اپنی مخلوق کی خبر داری کرتا ہے۔جب تم ایسی ہو جاؤ گی تو تمہیں دیکھ کر لوگوں کو خدا کا پتہ لگ جاوے گا۔پرانے زمانے کے بادشاہ شیشوں کے ذریعے اپنا عکس لوگوں کو دکھاتے تھے مگر یہ تو جہالت ہے۔ہاں خدا اپنا عکس بندوں کے ذریعہ سے دکھاتا ہے۔مثلاً حضرت محمد اللہ خدا کا شیشہ تھے اور اُن سے خدا ظاہر ہوتا تھا اس لئے میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم بھی خدا کی باتوں کو مانو اور ان پر عمل کرو۔دوسری نصیحت یہ ہے کہ ہم کو خدا نے ایک کام سپرد کیا ہے اور اس کام کے لئے ایک نبی بھیجا ہے وہ نبی کوئی نئی شریعت تو نہیں لا یا البتہ اس کے بھیجنے کی غرض دنیا میں اپنا چہرہ دکھلانا ہے۔اس نبی کا منشاء یہ تھا کہ اسلام کی تعلیم دنیا میں پہنچاہے۔ہم نے جو اس نبی کی بیعت کی ہے اس کے یہی معنی ہیں کہ گویا ہم نے اس نبی سے اقرار کیا ہے کہ جو کام تم کرتے ہو ہم بھی کریں گے۔اس کا یہی کام تھا کہ دنیا کوظلمتوں اور تاریکیوں سے بچاوے اس لئے تم لوگوں کو ظلمتوں اور تاریکیوں سے تب ہی بچا سکتی ہو جب تم اپنے اندر خو بیاں پیدا کرو اس کے متعلق میں تم کو چند باتیں بتا تا ہوں۔