اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 48

48 شرک سے بچو خدا کے جاننے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ شرک نہ کریں۔شرک کا مطلب میں اس لئے بتاتا ہوں کہ کئی پڑھے لکھے مرد بھی شرک نہیں جانتے تا تم اس سے بیچ کر خدا کے غضب سے بچو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں سب گناہ بخش سکتا ہوں مگر شرک کو ہرگز نہ بخشوں گا۔پس شرک سے بچنا بہت ضروری ہے۔شرک کی باتیں جن سے بچنا چاہیئے یہ ہیں کہ اول بڑے ادب کے طریقے اور عبادت کے طریقے خدا کے سوا اور کسی سے نہ برتے۔ادب کی بڑی باتیں یہ ہیں۔جھکنا یا کسی کے سامنے ہاتھ باندھنایاہاتھ جوڑ کر جھک جانا یا سجدہ میں گر جانا یا گھٹنے ایک کر بیٹھ جانا یہ تمام قوموں میں بے ادب کی باتیں میں نہ اگر یہ ادب کے طریقے ہم اوروں سے برتیں تو پھر خدا کا ادب ہنم کیسے کریں گے۔کیوں کہ خدا جو سب سے بڑا ہے اس کا ادب بھی سب سے بڑا ہونا چاہیے اس لئے یہ تمام ادب کے طریقے خدا ہی کے آگے برتنے چاہئیں کسی کے آگے جھک جاتا ، ہاتھ باندھنا یہ شرک ہے اور بڑے گناہ کی بات ہے یہ ساری باتیں ہیں جو آخری درجے کا ادب ہیں۔ہم اگر کسی دوسرے کا بھی اتنا ہی ادب کریں تو گویا ہم نے اس کو خدا کا شریک بنادیا جو منع ہے اس لئے اس قسم کے سارے کام منع ہیں۔(۲) دوسری شرک کی بات ہے کہ خدا کی طاقت کی باتیں بندوں میں سمجھ لینا۔مثلاً یہ سمجھنا کہ فلاں شخص بیماروں کو اچھا کرتا ہے شرک ہے، قبروں پر دئے جلانا بھی شرک ہے، کسی بندے سے اتنی محبت کرنا جتنی خدا سے کی جانی چاہیئے یہ بھی شرک ہے۔(۳) نماز کی پابندی کروجو شخص نماز کی پابندی نہیں کرتا وہ کبھی ایمان حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت محمد مت کہتے کہتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے کہ میرا بندہ نماز پڑھتا پڑھتا میرے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس کا ہاتھ پاؤں ، آنکھ اور کان ہو جاتا ہوں۔تو جو کام وہ اُن سے کرتا ہے گویا وہ نہیں کرتا بلکہ میں کرتا ہوں۔پس نماز ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ اس سے خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔تو جو یہ چاہتا ہے کہ میں قیامت کے دن خدا کا دیدار کروں وہ بھی نماز کو نہ چھوڑے اور نماز میں باجماعت پڑھے اور جو عورتیں با جماعت نہیں پڑھ سکتیں تو ان کو نماز میں گریہ وزاری اور توجہ سے پڑھنی چاہیں گویا کہ خدا تعالیٰ سامنے ہے اور وہ دیکھتا ہے اور تمام توجہ خدا کی طرف ہو۔ایک بزرگ کا واقعہ ایک دفعہ کسی بزرگ نے کسی امام کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کر دی اس وقت امام کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میرے پاس جو دو سو روپے ہیں ان کا تیل خرید کر دہلی جاؤں گا اور وہاں چار سو