اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 423
423 جب حضرت سعد نے کہا۔یا رسول اللہ میری ماں آ رہی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری سواری کو شہر الو۔جب آپ اس بوڑھی عورت کے قریب آئے تو اس نے اپنے بیٹوں کے متعلق کوئی خبر نہیں پوچھی۔صلى الله پوچھا تو یہ پوچھا کہ رسول کریم ہے کہاں ہیں۔حضرت سعد نے جواب دیا۔آپ کے سامنے ہیں۔اس الله بوڑھی عورت نے او پر نظر اٹھائی اور اس کی کمزور نگاہیں رسول کریم ﷺ کے چہرے پر پھیل کر رہ گئیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔بی بی ! مجھے افسوس ہے تمھارا جوان بیٹا اس جنگ میں شہید ہو گیا ہے۔بڑھاپے میں کوئی شخص ایسی خبر سنتا ہے تو اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں لیکن اس بڑھیا نے کیسا محبت بھرا جواب دیا کہ یا رسول اللہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں مجھے تو آپ کی خیریت کا فکر تھا۔یہی وہ عورتیں تھیں جو اسلام کی اشاعت اور تبلیغ میں مردوں کے دوش بدوش چلتی تھیں۔اور یہی وہ عورتیں تھیں جن کی قربانیوں پر اسلامی دنیا فخر کرتی ہے تمھارا بھی دعوی ہے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائی ہو۔اور حضرت مسیح موعود سول کریم کے بروز ہیں۔گویا دوسرے لفظوں میں تم صحابیات کی بروز ہو لیکن تم صحیح طور پر بتاؤ کہ کیا تمھارے اندر دین کا وہی جذبہ موجزن ہے جو صحابیات میں تھا، کیا تمھارے اندر وہی نور موجود ہے جو صحابیات میں تھا ،کیاتمھاری اولادیں ویسی نیک ہیں جیسی صحابیات کی تھیں، اگر تم غور کرو تو تم اپنے آپ کو صحابیات سے بہت پیچھے پاؤ گی۔سحابیات نے جو قربانیاں کیں آج تک دنیا کے پردے پر اس کی مثال نہیں ملتی۔ان کی قربانیاں جو انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر کیسں اللہ تعالے کو ایسی پیاری لگیں کہ اللہ تعالے نے بہت جلد اُن کو کا میابی عطا کی اور دوسری قومیں جس کام کو صدیوں میں نہ کر سکیں ان کو صحابہ اور صحابیات نے چند سالوں کے اندر اندر کر کے دکھا دیا۔رسول کریم ﷺ ہجرت کر کے جب مدینہ پہنچے اس وقت آپ تن تنہا تھے۔آپ ایک بے کس اور بے بس وجود تھے لیکن ابھی آٹھ سال نہیں گزرے تھے کہ آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے۔آٹھ سال کے اندراندر مردوں اور عورتوں نے ایسے رنگ میں قربانیاں کیں کہ اللہ تعالے کا فضل